Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کے لیے تحفظات لازمی

پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کے لیے تحفظات لازمی

صدر تلنگانہ جاگرتی شریمتی کے کویتا کا بیان

صدر تلنگانہ جاگرتی شریمتی کے کویتا کا بیان

حیدرآباد۔6مارچ(سیاست نیوز) صدر تلنگانہ جاگرتی شریمتی کویتا کلوا کنتالانے علیحدہ ریاست تلنگانہ میں پسماندگی کاشکار طبقات کے ساتھ انصاف کے لئے اِن طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کو لازمی قراردیا۔انہوں نے کہاکہ متحدہ آندھرا پردیش میں دلت اور مسلمانوں کا استحصال کرتے ہوئے آندھرائی قائدین نے مذکورہ طبقات کے درمیان نہ صرف تفرقہ پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ منظم انداز میں علاقہ تلنگانہ کے دلت اور مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا۔شریمتی کویتا نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل سرکاری محکموں میں مسلم ملازمین کے پچیس سے تیس فیصد تناسب کو تلگوزبان کی بنیاد پرایک فیصد سے بھی کم کردینے کا سیما آندھرا قائدین کو ذمہ دار ٹھرایا اور کہاکہ متحدہ ریاست آندھر اپردیش کے قیام کا سب سے بڑا نقصان تلنگانہ کے مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔انہوں نیکہاکہ تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں ان کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کا خاتمہ ممکن ہے ۔ کویتا نے کہاکہ ڈگری تک تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی مسلم نوجوانوں کی اکثریت روزگار سے محروم ہے۔

انہوں نے سرکاری محکموں کے بشمول خانگی شعبوں میںمسلم نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے سے مسلمانوں کی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ مسلم نوجوانوں کے ساتھ برتے جانیوالے تعصب کے خلاف بھی یہ عمل موثر ثابت ہوگا۔ انہو ں نے مزید کہاکہ مسلم نوجوانوں کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی فلاحی اسکیمات کے تحت آسان طریقہ کار اپناتے ہوئے قرضہ جات کی فراہمی کے ذریعہ ماضی میں ہوئے نقصان سے مسلم سماج کو باہر لایا جاسکے گا۔کویتا نے مسلم خواتین کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کی مدافعت کرتے ہوئے کہاکہ مسلم خواتین کے ساتھ بھی انصاف کو یقینی بنانے کی حکمت عملی درکار ہے انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میںمسلم خواتین اور لڑکیوں کو شعبہ تعلیم میں آگے بڑھانے کی بات کہی اور دیگر طبقات کے خواتین کے ساتھ مسلم خواتین کو بھی سرکاری محکموں میںقابلیت کی بنیاد پر ملازمتوں کو لازمی قراردیا۔شریمتی کویتا نے مجوزہ تلنگانہ میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے سے اُردو داں طبقہ میں پائی جانے والی احساس کمتری کو بھی دور کیاجاسکے گا۔ کویتا نے مزید کہاکہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے ساتھ تلنگانہ کے روایتی تہوار وں کے ساتھ مسلمانوں کے مخصوص ایام بالخصوص عیدین‘ محرم اور میلا دالنبی ؐ کو بھی سرکاری طور پر منایا جائے تاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں دوسرے درجہ کے شہریوں جیساسلوک مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا تھا اس احسا س سے تلنگانہ کے مسلمانوں کو باہر لاتے ہوئے سنہری تلنگانہ کی تشکیل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیاجاسکے۔ شریمتی کویتا نے کہاکہ تلنگانہ ریاست میں برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلم دانشوروںکی ایک نشست بلاتے ہوئے مسلمانوں کود رپیش مسائل کا جائزہ لے اور موثر انداز میںمذکورہ مسائل کے حل کو یقینی بنانے کا لائحہ عمل بھی تیار کرے۔

TOPPOPULARRECENT