Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / پسماندہ طبقات کے سیاسی عزائم

پسماندہ طبقات کے سیاسی عزائم

دونوں تلگو ریاستوں میں تیسرے متبادل کی تیاری
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : پسماندہ طبقات کے کنونشن میں جو وجئے واڑہ میں منعقد ہوا آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اشارہ دیا گیا کہ پسماندہ طبقات تیسرے متبادل کی حیثیت سے ابھریں گے اور 2019 کے انتخابات میں مقابلہ کریں گے ۔ بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی صدر اور تلگو دیشم رکن اسمبلی آر کرشنیا نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح اسمبلی اور پارلیمنٹ میں زیادہ تعداد میں بی سی نمائندے روانہ کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تمام سیاسی پارٹیاں پسماندہ طبقات کو ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں ۔ اقتدار پر آنے کے بعد پسماندہ طبقات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل کو مزیدبرداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم خود اقتدار حاصل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تلگو ریاستوں میں کمزور طبقات میں سیاسی عزائم کو پروان چڑھایا جارہا ہے ۔ دونوں تلگو ریاستوں میں تیسرے متبادل کے قیام کی ضرورت ہے ۔ یہ تیسرا متبادل عوام کی اکثریت کی نمائندگی کرے گا ۔ کرشنیا نے کہا کہ تلگو ریاستوں میں دو یا تین اعلیٰ ذاتیں ہی حکومت کررہی ہیں جب کہ عوام کی اکثریت کی جو پسماندہ طبقات درج فہرست اقوام قبائل اور اقلیتوں پر مشتمل ہے کوئی آواز نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT