Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / پسندیدہ برتھ نہ ملنے پر شیوسینا رکن اسمبلی کی دادا گری

پسندیدہ برتھ نہ ملنے پر شیوسینا رکن اسمبلی کی دادا گری

ایک گھنٹہ تک ٹرین روک دینے سے مسافرین کو مشکلات
ممبئی۔/14اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا کے ایک رکن اسمبلی اور ان کے حامیوں نے چھترپتی شیواجی ٹرمنس پر ایک اکسپریس ٹرین کو اپنی پسندیدہ برتھ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ تک روک دیا جس کے باعث 2000مسافرین کو مشکلات اور دیگر ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل پیدا ہوگیا۔ یہ واقعہ کل شب اسوقت پیش آیا جب ناندیڑ کے  ایم ایل اے ہیمنٹ پاٹل کو ایک سیکنڈ اے سی کوچ میں ایک سائیڈ برتھ مختص کئے جانے پر ناراض ہوکر مسلسل چین ( زنجیر ) کھینچتے ہوئے دیوناگری اکسپریس کو شب 10بجے تک روک دیا۔ ایک سینئر ریلوے عہدیدار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ نیتاجی ( پاٹل ) اور ان کے حواریوں نے تقریباً ایک گھنٹہ تک ٹرین کو روک دیا جو کہ ریلوے ایکٹ کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ جب بھی ٹرین آگے بڑھنے کی کوشش کرتی چین کھینچ کر روک دی جاتی تو بالآخر دیوناگری اکسپریس 9-10 بجے کی بجائے 10بجے شب سی ایس ٹی سے روانہ ہوئی۔ سنٹرل ریلوے کے عہدیداروں نے چیف منسٹر دیویندر فڈ نویس، اسپیکر اسمبلی ہری باہوباگڈے سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ عوامی نمائندہ کے خلاف کارروائی کریں جو کہ مہاراشٹرا میں حکمران بی جے پی کی حلیف جماعت شیوسینا کے رکن ہیں۔ اگرچیکہ رکن اسمبلی اپنی پسندیدہ برتھ دینے کے مطالبہ پر بضد رہے لیکن ریلوے حکام نے ان کے مطالبہ کو نظرانداز کردیا۔ یہ دریافت کئے جانے پر اس واقعہ کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔ ریلوے عہدیدار نے الٹا سوال کیا کہ آیا یہ ہماری غلطی ہے؟ یہ تو نیتا جی کی غلطی تھی جنہیں قانون کا کوئی خوف نہیں ہے اور ان حالات میں تحقیقات لاحاصل ثابت ہوں گی۔ ایک اور سینئر ریلوے عہدیدار نے کہا کہ ایک عوامی نمائندہ کی اس طرح کی حرکت کے خلاف تادیبی کارروائی ہونا چاہیئے جو کہ عوام کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے برخلاف عوام کو تکالیف دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاٹل کے غیرذمہ دارانہ طرز عمل سے طویل مسافتی ٹرینس سی ایس ٹی۔ منگلور اور سدیشور ایکسپریس کی روانگی میں 15تا 20منٹ کی تاخیر ہوئی۔ تاہم رکن اسمبلی اس واقعہ پر وضاحت طلبی کیلئے دستیاب نہیں ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT