Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / پشاور کی باچا خاں یونیورسٹی پر طالبان دہشت گرد حملہ، 24 ہلاک

پشاور کی باچا خاں یونیورسٹی پر طالبان دہشت گرد حملہ، 24 ہلاک

خان عبدالغفار کی برسی کے موقع پر مشاعرہ و سمپوزیم کے دوران حملے، ایک پروفیسر اور چار حملہ آور بھی مہلوکین میں شامل
پشاور ۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبرپختون خواہ کی ایک باوقار باچا خاں یونیورسٹی میں انتہائی مسلح طالبان نے زبردستی گھس کر طلبہ و اساتذہ پر اندھادھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجہ میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور دیگر 50 زخمی ہوگئے۔ پولیس نے کہا کہ شہرہ آفاق افسانوی رہنما خاں عبدالغفار خان (بادشاہ خاں) سے موسوم باچا خاں یونیورسٹی جنوب مغربی پشاور سے 50 کیلو میٹر دور چارسدا میں واقع ہے، جہاں انتہائی مسلح طالبان نے اچانک گھس کر طلبہ اور اساتذہ پر اندھادھند فائرنگ کی۔ بادشاہ خاں کا 20 جنوری 1988ء کو انتقال ہوا تھا اور آج ان کی برسی کے موقع پر کیمپس میں شعری سمپوزیم جاری تھا کہ طالبان تخریب کاروں کے اچانک حملہ کے بعد اس مقام سے شعر و سخن کے بجائے دھماکوں اور فائرنگ کی خوفناک آوازیں گونجنے لگیں۔ عمران خاں کی زیرقیادت پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے ایک قانون ساز شوکت یوسف زئی نے کہا کہ یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کے نتیجہ میں بشمول ایک پروفیسر، 24 افراد ہلاک اور دیگر 50 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو قریبی ہاسپٹل منتقل کردیا گیا ہے اور تمام دواخانوں میں ایمرجنسی (ہنگامی حالات) نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حملے کے بعد علاقہ کے تمام اسکولس بند کردیئے گئے۔ اس تازہ ترین حملے سے بمشکل ایک سال قبل پشاور کے ایک اسکول پر دہشت گرد حملے میں 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں کمسن طلباء وطالبات کی اکثریت تھی۔

شوکت یوسف زئی نے کہا کہ اس حملے میں غالباً 4 تا 10 دہشت گرد ملوث تھے۔ دیگر ذرائع کے بموجب سیکوریٹی فورسیس سے فائرنگ کے تبادلہ کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ حملے کے آغاز کے فوری بعد سیکوریٹی فورسیس کی بھاری جمعیت کیمپس روانہ کردی گئی۔ بعدازاں فوج بھی وہاں پہنچ کر کارروائی کی۔ فوجی ترجمان لیفٹننٹ جنرل سلیم باجوا نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ یونیورسٹی کو حملہ آوروں سے پاک و صاف کرنے کیلئے سیکوریٹی فورسیس کی طرف سے کی گئی کارروائی میں چار دہشت گرد مار دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے خفیہ نشانہ بازوں نے یونیورسٹی کے چھت سے گولی چلاتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ اس دوران تحریک طالبان پاکستان نے اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دعویٰ کیا کہ اس کے چار دہشت گرد اس حملے میں ملوث تھے۔ عسکریت پسند گروپ کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال پشاور اسکول پر ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد کی گئی فوجی کارروائیوں کے انتقام کے طور پر آج یہ حملہ کیا گیا۔

باچا یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم نے کہا کہ خاں عبدالغفار خاں کی برسی کے موقع پر منعقدہ مشاعرہ و سمپوزیم کے دوران حملہ کے وقت 3000 طلبہ کے علاوہ 600 مہمان موجود تھے۔ سربراہ افواج جنرل راحیل شریف، پشاور کے کور کمانڈر اور دیگر سرکردہ فوجی عہدیداروں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ اس موقع پر خیبرپختون خواہ کے گورنر سردار مہتاب احمد خاں بھی موجود تھے۔ جیو ٹی وی کے مطابق کیمسٹری کے پروفیسر حامد حسین بھی مہلوکین میں شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے کہا کہ شعبہ کیمسٹری کے چیرمین حامد شہید ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ان کے کمرہ میں گھس گئے اور سر پر گولی چلائی وہ برسرموقع ہلاک ہوگئے۔ صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اس دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سیکوریٹی فورسیس کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی کو جلد سے جلد تمام دہشت گردں سے پاک و صاف کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT