Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / پشاور کی مسجد میں دھماکے اور خودکش حملہ، 20ہلاک

پشاور کی مسجد میں دھماکے اور خودکش حملہ، 20ہلاک

پشاور ، 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں آج ایک مسجد میں دستی بموں کے حملے اور خودکش دھماکے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے حیات آباد کے فیز فائیو میں پاسپورٹ آفس کے قریب واقع مسجد امامیہ میں اس وقت ہوئے جب لوگ وہاں نمازِ جمعہ کیلئے جمع تھے۔ پشاور کے

پشاور ، 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں آج ایک مسجد میں دستی بموں کے حملے اور خودکش دھماکے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے حیات آباد کے فیز فائیو میں پاسپورٹ آفس کے قریب واقع مسجد امامیہ میں اس وقت ہوئے جب لوگ وہاں نمازِ جمعہ کیلئے جمع تھے۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر ریاض محسود نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار تھی جو امام بارگاہ کے برابر زیر تعمیر عمارت کی جانب سے آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پہلے فائرنگ ہوئی اور پھر دو خودکش حملہ آور امام بارگاہ کے احاطے میں داخل ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان خودکش حملہ آوروں میں سے ایک نے دھماکہ کر دیا جبکہ دوسرے کی جیکٹ نہیں پھٹ سکی۔

پشاور پولیس کی اسپیشل برانچ کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ شدت پسندوں نے مسجد پر پہلے دو دستی بم بھی پھینکے تھے۔ واقعہ کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور لاشوں اور زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہاسپٹل منتقل کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اسپتال میں ہجوم کی وجہ سے زخمیوں کی صحیح تعداد بتانا ممکن نہیں۔میڈیکل کمپلیکس کے ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر احمد زیب نے کہا کہ 40 سے زیادہ زخمی اسپتال لائے گئے ہیں۔

زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ڈاکٹر عثمان کی پھانسی کا بدلہ ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور فوج کے دستوں نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ عہدہ دار نے یہ بھی بتایا کہ بعض شدت پسندوں کی اب بھی علاقے میں موجودگی کی اطلاع ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پرسونل اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT