Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / پلاسٹک چاول اور شکر کی فروخت پر شہر میں دہشت کا ماحول

پلاسٹک چاول اور شکر کی فروخت پر شہر میں دہشت کا ماحول

اشیائے خورد ونوش میں ملاوٹ کے خلاف کارروائی میں ٹال مٹول ، عوام کی متعدد شکایتیں
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) پلاسٹک کے چاول اور شکر نے شہر کے بازاروں میں دہشت مچا رکھی ہے اور عوام اس مسئلہ سے دوچار ہیں کہ کس طرح ان غذائی اشیاء میں پلاسٹک کی جانچ کو ممکن بنایا جا سکے۔ اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ کوئی نئی بات نہیں لیکن ان ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کاروائی میں تاخیر اور ٹال مٹول لوگوں کی یادداشت کو کمزرو کردیتا ہے جس کے سبب یہ ملاوٹ کا کاروبار کرنے والے دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں ملوث ہونے لگتے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی سوشل میڈیا پر پلاسٹک کے چاول‘ شکر اور انڈے کے متعلق اطلاعات گشت کرنے لگی تھیں لیکن ان اطلاعات کے ساتھ ساتھ چند ویڈیوز بھی گشت کر رہے تھے لیکن ان پر کسی نے توجہ نہیں دی لیکن اب پلاسٹک کے چاول‘ شکر اور انڈا عوام کے درمیان موضو ع بحث بنے ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ پلاسٹک ملی ہوئی اشیاء شہر حیدرآباد کے بازاروں میں پہنچ چکی ہیں اور ان کے استعمال سے لوگ متاثر بھی ہونے لگے ہیں۔گذشتہ ہفتہ پلاسٹک کے چاول کے متعلق پرانے شہر کے پولیس اسٹیشن میر چوک میں ایک شکایت درج کروائی گئی اب اسی طرح کی متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔شکر میں پلاسٹک کے دانوں کی موجودگی کی شکایات بھی عام ہونے لگی ہیں اور لوگ اس بات کی شکایات کرنے لگے ہیں کہ شکر میں پلاسٹک کی ملاوٹ کی جا رہی ہے اور اس طرح کے کئی واقعات جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے صدر مقام بنگلورو میں بھی منظر عام پر آچکے ہیں ۔شہر حیدرآباد میں واقعی پلاسٹک کے چاول اور شکر فروخت کی جانے لگی ہے تو یہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ جو پلاسٹک زمین میں دفن ہونے کے باوجود برسوں تلف نہیں ہوتی اگر وہ انسانی جسم میں پہنچتی ہے تو اس کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔جناب محمد عبدالرحمن سہیل مالک فرحت فوڈ سنٹر نے بتایا کہ اس طرح کی اطلاعات کا وہ خود بھی مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن جن برانڈ کے باسمتی چاول کے ساتھ پلاسٹک کے چاول کی تشہیر کی جارہی ہے وہ درست نہیں ہے لیکن ان برانڈز میں جو چاول فراہم کیا جاتا ہے وہ سوپر فائن ہوتا ہے اور 3سے زیادہ مرتبہ اسٹیم کیا ہوا ہوتا ہے اسی لئے انہیں دیکھنے اور ان میں موجود کھنک انسان کو مشتبہ بنا سکتی ہے لیکن اس میں پلاسٹک کی موجودگی نہیں ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ باسمتی چاول زیادہ اسٹیم کیا ہونے کے سبب اسے پکانے کے بعد دوبارہ گرم کر تے ہوئے استعمال کیا جانا درست نہیں ہوتا جبکہ عام سونا مسوری چاول کو ایک یا دو مرتبہ اسٹیم کیا جاتا ہے جس کے سبب اس چاول کو متعدد مرتبہ گرم کر تے ہوئے استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔دکانات پر فروخت کئے جانے والے کھلے چاول میں پلاسٹک کے دانوں کی موجودگی کے متعلق بھی ابھی تک کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی لیکن عوام میں پیدا ہونے والی اس دہشت کے سبب تاجرین کو اپنے گاہکوںکو مطمئن کرنے کی کوشش کرنے میں دشواری پیدا ہوتی جا رہی ہے۔اب شکر اور انڈے کی اطلاعات نے بھی شہریوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے جسے سرکاری طور پر دور کیا جانا ناگزیر ہے۔

TOPPOPULARRECENT