Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / پلاسٹک کرنسی اختیار کرنے کی بھرپور تائید

پلاسٹک کرنسی اختیار کرنے کی بھرپور تائید

نئی دہلی 2 جون (سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے پلاسٹک کرنسی کے عظیم تر استعمال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پلاسٹک کرنسی کے عظیم تر استعمال کی تائید کی ہے ساتھ ہی ساتھ زور دیا کہ نئی سہولت کو ہوشنگ آباد اور میسور میں فروغ دیا جارہا ہے اس سے درآمدات پر جو شائع شدہ کرنسی نوٹوں کیلئے کیا جاتا ہے ‘ انحصار کم ہوجائے گ

نئی دہلی 2 جون (سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے پلاسٹک کرنسی کے عظیم تر استعمال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پلاسٹک کرنسی کے عظیم تر استعمال کی تائید کی ہے ساتھ ہی ساتھ زور دیا کہ نئی سہولت کو ہوشنگ آباد اور میسور میں فروغ دیا جارہا ہے اس سے درآمدات پر جو شائع شدہ کرنسی نوٹوں کیلئے کیا جاتا ہے ‘ انحصار کم ہوجائے گا۔ یہ تبدیلی ٹھوس انداز میں پلاسٹک کرنسی اور ادائیگی کے نئے طریقوں کے آغاز کی راہ ہموار کرے گی۔ مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ ان کے خیال میں ہندوستان کو یہ پختہ عہد کرلینا چاہئے کہ بتدریج اقدامات کرتے ہوئے پلاسٹک کرنسی کو اپنا لیا جائے گا ۔ وہ ’’میک ان انڈیا ۔ کرنسی کو ہندیانہ ‘‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو روایتی طریقوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا اور عصری ٹکنالوجیوں کو اپنانا ہوگا تا کہ صنعتیانے کا مستقبل روشن ہوسکے اور ملازمتوں کے مواقع حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جاریہ ماہ اپنے پُر عزم ’’سوچھ بھارت‘‘ پروگرام کے تحت تمام اسکولس میں 100 فیصد ٹائلیٹس کی دستیابی کا عہد کئے ہوئے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ہمارا ابتدائی نشانہ یہ ہے کہ تمام اسکولس خاص طور پر جہاں لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہے جون تک ان تمام کو ٹائلٹس سے 100 فیصد آراستہ کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام سی ایس آر کارپوریٹ کی سماجی ذمہ داری پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ۔ ہماری معاشی پالیسی کا بھی اعلان ہوچکا ہے اور اس میں بھی اس سلسلہ میں کافی ترغیبات دی گئی ہیں۔ وہ مشہور فاسٹ فوڈ کمپنی ڈامینوس پیزا کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے سوچھ بھارت کو ایک حفظان

صحت پروگرام قرار دیا ۔
ہائیکورٹس میں 366 ججس کی جائیدادیں مخلوعہ
نئی دہلی۔/2جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) اعلیٰ عدالتی عہدہ پر تقررات کا نظام قائم ہونے کے باوجود ججس کی قلت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہائیکورٹس کو فی الحال 366ججس کی ضرورت ہے۔ وزارت قانون سے محصلہ معلومات کے بموجب ملک کی 24ہائیکورٹس نے 651ججس کے تقرر کی خواہش کی ہے جبکہ 1017 ججس یکم مئی 2015ء کو موجود ہیں ججس کے تقررات کالجیم سسٹم کے تحت کئے جاچکے ہیں لیکن نئے قانون کے مطابق یہ طریقہ ترک کردیا گیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT