Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / پلاسٹک کچرا، انسانی زندگی کیلئے خطرہ، ماحولیاتی آلودگی سے نجات کیلئے شعور بیداری پروگراموں کے نتائج صفر

پلاسٹک کچرا، انسانی زندگی کیلئے خطرہ، ماحولیاتی آلودگی سے نجات کیلئے شعور بیداری پروگراموں کے نتائج صفر

حیدرآباد ۔ 14 اکٹوبر (ایجنسیز) موجودہ دور میں پلاسٹک کچرا بڑھنے سے جس طرح ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے، وہ انسانی زندگی کیلئے تو نقصاندہ ہے ہی، ساتھ ہی ہماری صحت پر بھی مضر اثرات ہوتے ہیں حالانکہ اس کیلئے سرکار کی حمایت میں غیرسرکاری اداروں کے ذریعہ شعور بیداری پروگرام بھی چلائے جارہے ہیں لیکن نتائج اس جیسے نہیں دکھائی دے رہے ہیں بلکہ مکمل صفر نتائج ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ غیر سرکاری اداروں کی یہ تحریک بہتر نتائج کیوں نہیں پیدا کررہی ہیں۔ اس کے پیچھے کی کہانی کہیں صرف کاغذی تو نہیں ہے۔ ہندوستان میں کاغذی کام کی بیماری مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر حقیقی روپ سے دیکھا جائے تو کاغذوں کے اعداد و شمار کے مطابق کہیں کام دکھائی نہیں دیتا۔ اگر پلاسٹک کے کچرے بڑھنے کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو ایک دن ہمیں صاف و شفاف ہوا سے بھی محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں کیمیائی اور دواؤں کے ذریعہ پیداوار کی تیاری کی وجہ جسم میں کئی طرح کے خطرناک جراثیم داخل ہورہے ہیں جو صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور نئی نئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلیوں میں بہت سارے لوگ گھر کا کچرا باہر پھینک رہے ہیں جس کو جانور کھالیتے ہیں اور اس طرح بہت سارے جانوروں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بہت بڑا سچ یہ بھی ہیکہ پالیتھن اور غذائی اشیاء کیلئے استعمال کئے جانے والے پلاسٹک کے سامان زہر بھرا ہوسکتا ہے۔ کھانا کھانے پر مجبور کررہے ہیں حالانکہ ہمارے ملک میں سوچھ بھارت ابھیان چلایا جارہا ہے پلاسٹک کچرا سوچھ بھارت ابھیان کی سمت میں بہت بڑی رکاوٹ بن کر ابھر رہا ہے۔ پلاسٹک کچرے کو ختم کرنے کیلئے بی جے پی کی چھتیس گڑھ حکومت نے قابل ستائش قدم اٹھایا ہے۔ اس نے 2014ء میں پالیتھن پر پابندی لگا کر اس کے استعمال کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور اب غذائی اشیاء کیلئے پلاسٹک کے استعمال کو روکنے کیلئے بھی پوری طرح پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چھتیس گڑھ حکومت کا یہ اقدام، سبھی ریاستوں کیلئے قابل تقلید ہے۔ ملک میں کاغذ اور کپڑے کے بیگ ہی کا چلن تھا، لیکن بیرون ممالک کی نقل کرنے کے سبب ہم بھی پلاسٹک کا استعمال کرنے لگے۔ یہی وجہ آج ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہا ہے۔ لوگ اپنا کام بنانے کیلئے پلاسٹک کے سامانوں کا استعمال کررہے ہیں اور بعد میں یہی سامان کچرا بن جاتا ہے جو عوام کیلئے پریشان کن مسئلہ ثابت ہورہا ہے۔ کچرا پھینکنے والے لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ کچرا ہمارے لئے بھی تکلیف کا سبب بن رہا ہے۔ ملک کیلئے خطرناک حالت پیدا کررہا ہے۔ آج ہم کو سوچنا ہوگا کہ ہم ملک صحتمند بنانے کیلئے اپنا کتنا حصہ ادا کررہے ہیں۔ اگر اس کا جواب نہیں میں ہے تو ہمارے اندر ہندوستانیت کا اثر نہیں ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پلاسٹک کچرے کے سبب جن بستیوں میں پانی بھر جاتا ہے، اس کا ایک سبب خود ہم ہی ہیں۔ نالیاں جام ہونے کی وجہ سے ہی ایسے حالات بن رہے ہیں۔ صاف و شفاف ہوا دینے والے پیڑ پودے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT