Sunday , October 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پلاسٹک کچرا، پوری دنیا کی زندگی کیلئے خطرہ،خشکی سے لیکر سمندری جانور اور پرندے تک متاثر، 2050 ء تک حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ

پلاسٹک کچرا، پوری دنیا کی زندگی کیلئے خطرہ،خشکی سے لیکر سمندری جانور اور پرندے تک متاثر، 2050 ء تک حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ

حیدرآباد 25 نومبر (ایجنسیز) پلاسٹک کچرے کے مسئلہ سے آج پوری دنیا پریشان ہے، اس کی وجہ سے انسان ہی نہیں بلکہ پورے جانور اور پرندے بھی متاثر ہیں۔ اگر اس پر اچھی طرح قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو آج پلاسٹک کچرا ہر جاندار کیلئے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کچرے کے سبب زمین کی سانس پھولنے لگی ہے۔ سب سے بڑی اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ سمندری نمک میں بھی زہر گھول رہا ہے۔ اس سے انسان کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہونا لازمی ہے۔ اس سچائی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ یہی سبب ہے کہ پلاسٹک ایک بار سمندر میں پہنچ جانے کے بعد چمبک بن جاتے ہیں۔ امریکہ کے لوگ ہر سال 660 سے زیادہ پلاسٹک کے دانے نگل رہے ہیں۔ یہی نہیں زمین پر، گھاس پوس پر زندگی گزارنے والے بھی پلاسٹک کی وجہ اپنی زندگی گنوارہے ہیں۔ سمندر میں زندگی گزارنے والے جاندار بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ آرکیٹکٹ ساگر کے بارے میں کی گئی رپورٹ میں چونکا دینے والی ہیں جس کے مطابق 2050 ء میں اس ساگر میں مچھلیاں کم ہوں گی اور پلاسٹک سب سے زیادہ۔ آرکیٹکٹ کے لئے پانی میں اس سال 100 سے 1200 ٹن کے درمیان پلاسٹک ہوسکتے ہیں جو مختلف طریقوں سے سمندر میں جمع ہورہا ہے۔ پلاسٹک کے یہ چھوٹے بڑے ٹکڑے ساگر کے پانی میں ہی نہیں پائے گئے ہیں بلکہ یہ مچھلیوں کے جسم میں بھی کثرت سے پائے گئے ہیں۔ گرین لینڈ کے پاس سمندر میں ان کی تعداد کافی مقدار میں پائی گئی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ دنیا کے تقریباً 90 فیصد سمندری جانور کسی نہ کسی شکل میں پلاسٹک کھارہے ہیں۔ یہ پلاسٹک ان کے پیٹ میں ہی رہ جاتے ہیں جو ان کے لئے جان لیوا ثابت ہورہے ہیں۔ یہ پلاسٹک کے تھیلوں، بوتل کے ڈھکنوں، سینتھٹک کپڑوں سے نکلے پلاسٹک کے دھاگے شہری علاقوں سے ہوکر اور شہری کچرے سے بہہ کر ندیوں کے راستے سمندر میں آتے ہیں۔ سمندری مچھلیاں اور دیگر جانور غلطی سے اسے کھانے والی چیز سمجھ کر نگل لیتے ہیں، نتیجہ میں انھیں آنت سے متعلق بیماریاں ہوتی ہیں، ان کا وزن گھٹنے لگتا ہے۔ امریکی سائنسدانوں نے انتباہ دیا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک سے سمندری زندگی کی جان خطرہ میں پڑگئی ہے۔ اگر سمندر میں آرہے پلاسٹک پر جلد روک نہیں لگائی گئی تو تین دہوں میں جانداروں کی بہت بڑی تعداد خطرے میں پڑجائے گی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بیچ کے ساگر کا علاقہ کافی متاثرہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1960 ء کے دہے سے لے کر اب تک سمندر میں جانداروں کے پیٹ میں پائے جانے والے پلاسٹک کی مقدار دن بہ دن تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 1960 ء میں آبی جانوروں کی غذا میں صرف 5 فیصد ہی پلاسٹک کی مقدار پائی گئی تھی لیکن آنے والے 33 سالوں کے بعد 2050 ء میں حالت یہ ہوگی کہ 99 فیصد سمندری جانوروں کے پیٹ میں پلاسٹک ملنے کے امکانات ہیں۔ اگر پوری دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سات دہوں میں پلاسٹک کی پیداوار کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس دوران تقریباً 8.3 ارب میٹرک ٹن پلاسٹک کی پیداوار ہوئی۔ اس میں 6.3 ارب ٹن پلاسٹک کچرے کا ڈھگ لگ چکا ہے۔ جس کا محض 9 فیصد ہی ریسائیکل کیا جاچکا ہے۔ سال 1950 ء میں دنیا میں پلاسٹک کی پیداوار صرف 20 لاکھ میٹرک ٹن تھی جو 65 سال میں یعنی 2015 ء تک بڑھ کر 40 کروڑ میٹرک ٹن ہوگیا ہے۔ ہمارے یہاں ہر سال 56 لاکھ ٹن پلاسٹک کچرا نکلتا ہے۔ پورے ملک کی حالت تو کچھ اور ہے۔ مرکزی تحفظ ماحولیاتی بورڈ کے مطابق دہلی میں 690 ٹن، چینائی میں 429 ٹن، کولکاتا میں 426 ٹن اور ممبئی میں 408 ٹن پلاسٹک کچرا ہر روز پھینکا جاتا ہے۔ اس جانب حکومت کی عدم دلچسپی باعث افسوس اور سمجھ سے باہر ہے۔

TOPPOPULARRECENT