Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / پلانی سوامی حکومت نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا

پلانی سوامی حکومت نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا

انا ڈی ایم کے اقتدار کو 234 رکنی ایوان میں 122-11 کی اکثریت

چینائی 18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) پلانی سوامی حکومت نے آج ٹاملناڈو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ ایوان میں کافی ڈرامائی حالات اور شوروغل کے بعد  آخرکار 122-11 کے ندائی ووٹ سے جیت لیا۔ اِس ووٹنگ سے قبل اصل اپوزیشن ڈی ایم کے  کو خارج کردیا گیا اور اُس کی حلیفوں نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا، جن کے 234 رکنی ایوان میں 98 لیجسلیچرس ہیں۔ سابق چیف منسٹر پنیر سیلوم صرف 11 ووٹ جٹا سکے، جس کے ساتھ طویل تعطل اختتام پذیر ہوا جو اُن کی بغاوت اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے سربراہ وی کے ششی کلا کی لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب ہونے کے بعد سزا دہی کی وجہ سے شروع ہوگیا تھا۔ گورنر سی ایچ ودیا ساگر راؤ نے ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کو ششی کلا کی جانب سے نامزد کئے جانے کے بعد چیف منسٹر کے طور پر مقرر کرتے ہوئے اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15 یوم کا وقت دیا تھا۔ ایوان میں ووٹنگ شوروغل اور ڈی ایم کے ارکان کی جانب سے حملوں کے الزامات کے سبب دو مرتبہ کارروائی ملتوی کرنے کے بعد ووٹنگ کرائی گئی۔ اسپیکر پی دھنپال اور اپوزیشن لیڈر ایم کے اسٹالن نے کہاکہ ایوان میں گڑبڑ کے دوران اُن کے شرٹس پھٹ گئے۔ اسٹالن فوری راج بھون چل دیئے تاکہ گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے اُنھیں ایوان کے حالات کے تعلق سے واقف کراسکے۔ موافق ششی کلا حکومت کے لئے کرو یا مرو کی جدوجہد کے تناظر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے اسمبلی کے باہر سخت سکیوریٹی بندوبست کیا گیا تھا۔
اسمبلی میں اُس وقت شوروغل کے مناظر دیکھنے میں آئے جب اپوزیشن ارکان خفیہ رائے دہی پر اصرار کرنے لگے اور مطالبہ کیاکہ ایم ایل ایز کو اپنے حلقوں کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے جہاں وہ عوام سے ملاقات کرنے کے بعد اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ تاہم اِس مطالبہ کو اسپیکر نے مسترد کردیا اور ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر سہ پہر 3 بجے عددی طاقت کی آزمائش شروع کی۔ پنیر سیلوم جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اُنھیں چیف منسٹر کی حیثیت سے مستعفی ہونے مجبور کیا گیا، وہ پھر ایک بار اکثریت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اِس ماہ کے دوران دو مرتبہ گورنر سے ملاقات کئے۔ ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل پلانی سوامی کیمپ کو جھٹکہ بھی لگا تھا جب کوئمبتور نارتھ کے ایم ایل اے ارون کمار یہ کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ گزشتہ روز مائیلاپور حلقہ کے ایم ایل اے آر نٹراج نے کہا تھا کہ وہ چیف منسٹر کی تحریک اعتماد کے خلاف ووٹ دیں گے۔ علیل ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی آج کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے۔ اسمبلی میں عددی طاقت کی آزمائش تقریباً 30 سال میں اِس ریاست میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہوئی۔ پنیر سیلوم نے ششی کلا اور اُن کی فیملی کے خلاف اپنی لڑائی اُس وقت تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا جب تک اماں (جیہ للیتا) والا اقتدار بحال نہیں ہوجاتا۔ اسمبلی میں انا ڈی ایم کے کی مجموعی طاقت 134 ہے۔ قبل ازیں جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، پنیر سیلوم کیمپ نے خفیہ بیالٹ کا مطالبہ کیا۔ پنیر سیلوم کے علاوہ اُن کے حامیوں ایس سیمالائی اور سابق وزیر کے پانڈیا راجن ، اپوزیشن لیڈر اسٹالن، کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر کے آر راما سوامی ، آئی یو ایم ایل ممبر عبدالباقر اور مائیلاپور کے رکن نٹراج نے بھی خفیہ رائے دہی کرانے پر زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT