Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / پلے گراؤنڈس میں سیل فون ٹاورز کی تنصیب خطرناک فیصلہ

پلے گراؤنڈس میں سیل فون ٹاورز کی تنصیب خطرناک فیصلہ

حیدرآباد ۔ 11ڈسمبر ( سیاست نیوز) کھیل کے میدانوں(پلے گراؤنڈس) اور پارکوں میں سیل فون ٹاور کی تنصیب کے خطرناک فیصلے سے بلدیہ کو فوری دستبردار ہونا چاہیئے ‘ دیگر صورت میں عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے گا ۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسسٹ) سی پی آئی ( ایم) پارٹی کے سٹی سکریٹری مسٹر ایم سرینواس نے اپنے اخباری بیان میں حکومت کے اس فیصلہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ فیصلہ شہریوں کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ سیل فون ٹاورس کی تنصیب کے معاملہ میں بہت بڑا غبن ہوا ہے جسکے خلاف فوری تحقیقات کروائی جائے ۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد کے میئر کے بیان کو احمقانہ بیان قرار دیا اور کہا کہ میئر کا بیان معلومات کی کمی اور ناکامیوں کی خود دلیل ثابت ہورہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت اور سیل فون ٹاورز مالکین کی ملی بھگت کے سبب بلدیہ کو 100کروڑ کا نقصان ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز سیل فون ٹاورز کی تنصیب سے متعلق میئر نے اعلان کیا جو سال 2015ء کے سرکاری حکمنامہ کے خلاف ہے ‘ چونکہ اس وقت حکومت نے جی او نمبر 96 جاری کرتے ہوئے پارکوں ‘ عوامی مقامات ‘ میدانوں میں سیل ٹاورز کی تنصیب کو ممنوع قرار دیا تھا ۔ سی پی ایم کے سکریٹری سرینواس نے میئر کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میئر نے اپنے بیان میں شہر میں 2ہزار سیل ٹاورز کی موجودگی کا ذکر کیا اور صرف 500ٹاورز کی جانب سے ٹیکس ادائیگی کا حوالہ دیا جبکہ شہر میں 6ہزار سے زائد سیل ٹاورز پائے جاتے ہیں جن میں انڈز ٹاور لمٹیڈ ادارے کہ تین ہزار ٹاورز ہیں جبکہ ریلائنس کے دو ہزار ‘ ان اداروں کو بلدیہ سے اجازت کیلئے ایک لاکھ روپئے پرمٹ فیس ادا کرنی پڑتی ہے ۔ ان میں کئی ٹاورز کے پرمٹ حاصل نہیں کئے گئے اور ان میں اکثریت ٹیکس بھی ادا نہیں کرتی جس کے سبب بلدیہ کو سالانہ 100کروڑ کی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑرہا ہے ۔ سی پی ایم نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیل ٹاورز کمپنیوں سے مکمل ٹیکس اور فیس وصول کرے اور بلدی کی آمدنی میں اضافہ کرے ۔

TOPPOPULARRECENT