Monday , September 24 2018
Home / جرائم و حادثات / پلے گراؤنڈ کے جم میں نمائندہ کارپوریٹر کی چندہ وصولی

پلے گراؤنڈ کے جم میں نمائندہ کارپوریٹر کی چندہ وصولی

اسپورٹس کامپلکس پر مقامی جماعت کا رعب، بلدیہ خواب غفلت میں
حیدرآباد۔/3 مارچ، ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پلے گراؤنڈ کی بہت زیادہ قلت پائی جاتی ہے لیکن جہاں کہیں بھی پلے گراؤنڈ اور اسپورٹس کامپلکس موجود ہیں ان میں حقیقی استفادہ کنندگان کی تعداد پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہے۔ سیاسی نگرانی کے نام پر ان اسپورٹس کامپلکس کا مقامی جماعت کے افراد یا تو اپنا حکم چلاتے ہیں یا پھر آپسی برتری کی دوڑ میں اسپورٹس کامپلکس لاپرواہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لیکن ریڈ ہلز اسپورٹس کامپلکس میں ان دنوں کچھ اور ہی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مقامی نمائندہ کارپوریٹر پر جم میں ورزش کرنے والے نوجوانوں سے زائد فیس وصولی کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ اس علاقہ میں بہت زیادہ خانگی جم پائے جاتے ہیں لیکن گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے قائم کردہ اس مہم میں بھی فیس وصولی تعجب اور افسوس کا باعث بنی ہوئی ہے۔ نمائندہ کارپوریٹر پر الزامات ہیں کہ وہ جم آنے والوں کی شکل صورت کو دیکھتا ہے اور بغیر سفارش کے کسی پر بھی تو جہ نہیں دیتا جبکہ جم کی حالت دن بہ دن خطرناک ہوتی جارہی ہے اور گزشتہ 15 دن سے برقی محکمہ نے جم کے برقی کنکشن کو منقطع کردیا اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ نمائندہ کارپوریٹر برقی کنکشن کو بچانے میں ناکام ہوگیا لیکن نوجوانوں سے زبردستی رقم وصولی کا سلسلہ برقرار ہے۔ ریڈ ہلز پلے گراؤنڈ میں واقع جم میں صبح و شام 50 تا 80 نوجوان صحت بنانے کیلئے ورزش کیلئے رجوع ہوتے ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ جم کو بڑے قائد کے نام سے موسوم کیا گیا اور رقم وصول کی جارہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے۔ بلدی عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ نمائندہ کارپوریٹر پر لگام لگاتے ہوئے سرکاری سہولیات کی فراہمی میں دلچسپی دکھائیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ سرکاری سہولیات کی فراہمی میں لاپرواہی کیلئے عوامی منتخبہ نمائندہ اپنی خدمات انجام دے کر عوام کو راحت فراہم کرتے ہیں لیکن ریڈ ہلز میں کچھ الٹا ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس نمائندہ کارپوریٹر پر ناجائز قبضوں کے بھی الزامات ہیں جو ایک یوتھ لیڈر کا قریبی اور بااعتماد ورکر ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT