Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / پناما پیپرس پر دنیا بھر میں اتھل پتھل ‘ وزیر اعظم آئیس لینڈ مستعفی

پناما پیپرس پر دنیا بھر میں اتھل پتھل ‘ وزیر اعظم آئیس لینڈ مستعفی

٭     وزیر اعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون پر بھی انکشافات کے بعد دباؤ میں اضافہ
٭    بیرونی اثاثے رکھنے والوں کی دوسری فہرست میں بھی کئی ہندوستانی شامل
٭    سابق کرکٹر اشوک ملہوترا ‘ ایک سیاستداں ‘ مزید ایک صنعتکار و سابق وبیوروکریٹ کا نام
٭    بیرونی کمپنیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ‘میرے نام کا بیجا استعمال : امیتابھ بچن

پناما سٹی / نئی دہلی 5 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) تاریخ کے سب سے بڑے انکشاف سمجھے جانے والے پناما پیپرس نے دنیا میں اتھل پتھل کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ ان انکشافات کا پہلا شکار آئیس لیڈ کے وزیر اعظم بنے ہیںجن کا نام ان پیپرس میں سامنے آیا تھا ۔ اپوزیشن اور عوام کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفی پیش کردیا ہے اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی سفارش کی ہے تاہم صدر آئیس لینڈ نے اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں پناما نے کہا ہے کہ وہ اس افشا میں جو انکشافات ہوئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز کریگا ۔ ایک قانونی کمپنی نے یہ انکشافات کئے ہیں جن میں کئی اہم عالمی شخصیتوں کے نام شامل ہیں ۔ یہ عالمی متمول اور با اثر افراد شامل ہیں۔ پناما میں وکیل استغاثہ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا مقصد یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کون سے جرائم کا ارتکاب ہوا ہے اور ایسا کس نے کیا ہے ۔ علاوہ ازیں امکانی مالی نقصانات کا تخمینہ بھی کیا جائیگا ۔ قانونی کمپنی کے موساک فونسیکا نے کہا کہ ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات کا اس کے سرورس سے افشا ہوا ہے جس کو محدود ہیکنگ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی فریق بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس دوران پنامای کے صدر یوان کارلوس وریلا نے کہا کہ جس کسی ملک میں حکومتوں کی جانب سے ان انکشافات کے سلسلہ میں تحقیقات کی جائیں گی ان کا ملک ان میں تعاون کریگا ۔ اس اسکینڈل سے جو نتائج سامنے آئیں گے ان کی فوجداری تحقیقات کا بھی ان کے ملک نے اعلان کیا ہے ۔ انکشافات میں کہا گیا ہے کہ 1980 کی دہائی میں جب پناما پر ڈکٹیٹر جنرل مینول نوریگا کی حکومت تھی اس وقت کولمبیا کے منشیات کے گروہوں کا استقبال کیا گیا تھا اس کے بعد سے یہ ملک غیر قانونی رقومات کی منتقلی یا ٹیکس چوری کرنے والوں کی آماجگاہ بن گیا تھا ۔ اس ملک کو غیر قانونی رقمی منتقلی کے مرکز کی حیثیت سے بدنام کیا جا رہا ہے ۔ اس دوران نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آج مزید انکشافات ہوئے ہیں

جن میں ایک صنعتکار ‘ ایک سابق کرکٹر کے نام بھی شامل ہیں جن کے مبینہ طور پر بیرونی ملک روابط تھے ۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے آج انکشاف کیا ہے کہ کئی ہندوستانیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ روزنامہ کے بموجب انڈور ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کا ایک با اعتماد ساتھی بھی اس میں شامل ہے جس نے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کیلئے اپنی مختلف 17 شناختیں بنا رکھی تھیں۔ علاوہ ازیں دوسری فہرست میں بعض نام دہرائے گئے ہیں جن میں سیاستداں انوراگ کجریوال ‘ صنعتکار گوتم اور کرن تھاپر ‘ تجارتی شعبہ کے افراد رنجیو ہوجا ‘ کپل سین گوئل ‘ جوہری اشونی کمار مہرا ‘ سابق کرکٹر اشوک ملہوترا ‘ آئی ٹی مشیر گوتم سنیگل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ویویک جین ‘ پربھاش شنکھلا ‘ ستیش گوئند سمتانی ‘ وشال بہادر اور ہریش موہنانی کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ روزنامہ نے کل بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن اور ان کی بہو ایشوریہ رائے بچن کے نام بھی اس فہرست میں شامل کئے تھے ۔ اس پر امیتابھ بچن نے آج لب کشائی کی ہے اور انہوں نے کہا کہ ان بیرونی کمپنیوں اور فرمس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے جن کا انہیں ڈائرکٹر دکھایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ کسی نے ان کے نام کا بیجا استعمال کیا ہو۔ علاوہ ازیں صنعتکار گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی ‘ سشیر بجوریا ( مغربی بنگال ) اور لوک ستہ پارٹی کے انوراگ کجریوال بھی ان افراد میں مبینہ طور پر شامل ہیں

جنہوں نے بیرونی ممالک میں کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں ٹیکس چوری کی سہولت دستیاب ہے ۔ کل یہ اطلاعات عام ہوتے ہی ومیر اعظم نریندر مودی نے مختلف محکمہ جات پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا ۔ انگریزی اخبار نے ادعا کیا ہے کہ گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی نے ایسی معاملت میں بے نقاب ہونے سے بچنے کے مقصد سے اپنا نام بدل لیا تھا اور اس نے اپنا نام ونود شانتی لال شاہ رکھ لیا تھا اور اڈانی کو حذف کردیا تھا ۔ ونود اور اس کی بیوی پر بیرونی ممالک میں کمپنیاں رکھنے کا الزام ہے ۔ بعد ازاں اس کی بیوی نے اپنے بیٹے راکیش کے حق میں دستبرداری اختیار کرلی تھی ۔ علاوہ ازیں آئیس لینڈ سے ملی اطلاعات کے بموجب وزیر اعظم آئیس لینڈ سگمندور ڈیوڈ گنلوگسن نے استعفی پیش کردیا ہے ۔ وہ اس انکشاف کے بعد ان کا پہلا سیاسی شکار ہوئے ہیں۔ اس افشا کے بعد ان پر استعفی کیلئے زبردست دباؤ ڈالا جا رہا تھا ۔ انہوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا ۔ اسکے علاوہ وزیر اعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انکے والد بیرون ملک فنڈ چلاتے تھے اور 30 سال تک برطانیہ میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا ۔

TOPPOPULARRECENT