Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / پناہ گزینوں کے بارے میں قانون سازی کی ضرورت

پناہ گزینوں کے بارے میں قانون سازی کی ضرورت

ہندوستان اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتا ، سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید
حیدرآباد۔ 21 ستمبر (پی ٹی آئی) سابق مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے آج کہا کہ ہندوستان کو پناہ گزینوں کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے جامع قانون سازی کرنی چاہئے تاکہ حکومت کو کسی طرح کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا سینئر رکن ہونے کی بناء ہندوستان کو پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی کنونشن اور پروٹوکول پر دستخط بھی کرنا چاہئے۔ سلمان خورشید جو سابق مرکزی وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں، کہا کہ ہندوستان نے تبت، سری لنکا اور افغانستان کے علاوہ دیگر کئی پناہ گزینوں کو جگہ دی ہے۔ ان کی بازآبادکاری اور دیگر کئی مسائل کا عموماً سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر اقدامات کے باوجود پناہ گزینوں کو کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں اور عالمی سطح پر بھی یہی صورتحال دیکھی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی نشست کا دعویدار ہونے کی بناء اور اقوام متحدہ کی امن فورس میں شامل رہتے ہوئے دنیا بھر میں حصہ لینے کے پیش نظر پناہ گزینوں کو جگہ دینے کے معاملے میں اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتا۔ یوروپ نے کئی مشکلات کے باوجود پناہ گزینوں کو جگہ دی۔ امریکہ نے بھی ماضی میں یہ کام کیا ہے لیکن موجودہ انتظامیہ میں بعض مشکلات پیش آرہی ہیں، تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا ملک جس نے ہمیشہ جمہوریت، انسانی حقوق اور پاسداری کی حمایت کی ہے، اسے ایک ایسی پالیسی بنانی چاہئے جہاں حکومت کو پناہ گزینوں کے مسئلہ پر کسی طرح کی مشکل درپیش نہ ہو۔ اس قانون کے ذریعہ بعض اصول وضع کئے جاسکتے ہیں جن سے مسئلہ سے موثر طور پر نمٹنے میں مدد ملے گی۔ روہنگیا ئی باشندوں کے تعلق سے ہندوستان کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صرف روہنگیا کے سلسلے میں اختیار کردہ پالیسی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو مذہبی نکتہ نظر سے دیکھ رہی ہے اور یہ تشویشناک پہلو ہے۔ پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بات عمومی انداز میں کی جاتی ہے لیکن روہنگیا مسئلہ کو مخصوص انداز میں دیکھا جارہا ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ تمام پناہ گزینوں کیلئے بلالحاظ مذہبی امتیاز یکساں پالیسی ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT