Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / پنجابی مصنف کا پدم شری ایوارڈ واپس

پنجابی مصنف کا پدم شری ایوارڈ واپس

ساہتیہ اکیڈیمی کا ہنگامی اجلاس طلب،آر ایس ایس کی شدید تنقید
چندی گڑھ / نئی دہلی ۔ 13 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) نامور پنجابی مصنف، پدم شری ایوارڈ یافتہ دلیپ کمار تیوانا نے ملک میں مسلمانوں پر ’’بار بار مظالم‘‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنا ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک کنڑ رائٹر پروفیسر رحمت تری کیری اور ہندی ترجمہ نگار چمن لال نے بھی اپنے ایوارڈس واپس کرنے کا اعلان کیا۔ دریں اثناء سلمان رشدی نے وزیراعظم نریندر مودی کی اس مسئلہ پر ’’خاموشی‘‘ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس ’’تشدد‘‘ کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے اس تنقید کو بھی مسترد کردیا کہ وہ مودی کے مخالف ہیں اور کہا کہ انہوں نے کسی بھی سیاسی پارٹی کی تائید نہیں کی ہے۔ اس طرح ایوارڈ واپس کرنے والے مصنفین کی جملہ تعداد 26 ہوگئی ہے۔ گوا میں تقریباً 20 مصنفین کل ایک اجلاس منعقد کر رہے ہیں جس میں جاریہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ دریں اثناء اوڑیہ شاعر راجندر کشور پانڈا نے ساہتیہ اکیڈیمی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اگر اکیڈیمی ایسا کرنے سے قاصر رہے تو اس نے ارکان سے ایسا کرنے کی اپیل کی ہے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب آر ایس ایس نے مصنفین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سیکولرازم کی بیماری‘‘ ہوگئی ہے، اسی وجہ سے وہ اپنے اعزاز واپس کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس نے سوال کیا کہ ان قلمکاروں نے دہلی کے سکھ دشمن فسادات کے خلاف ایسا احتجاج کیوں نہیں کیا تھا، کیا دانشوروں کے ضمیر نے اس وقت ان کی ملامت نہیں کی تھی۔ آر ایس ایس کے ترجمان ’’پنچ جنیہ‘‘ میں اس بارے میں ایک اداریہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر تعریف صرف ایک گروپ یعنی اقلیتوں تک محدود نہیں ہے۔ جب کشمیری پنڈت بے گھر ہوئے تھے تو ان قلمکاروں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT