Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / پنجاب میں مخالف حکمرانی لہر

پنجاب میں مخالف حکمرانی لہر

پھٹ پڑیں گے جب کبھی سوئے ہوئے آتش فشاں
یہ عمارت ظلم کی شعلہ فشاں ہوجائے گی
پنجاب میں مخالف حکمرانی لہر
پنجاب اور گوا میں اسمبلی حلقوں کے لئے ہوئی رائے دہی سے واضح ہورہا ہے کہ مخالف حکمرانی لہر کا اثر زیادہ ہے ۔ پنجاب میں 117 رکنی اسمبلی کے لئے تقریباً 1.4 کروڑ  رائے دہندوں نے اپنے حق ووٹ سے استفادہ کیا ۔ اس ریاست کے اہم انتخابات میں 1,100 امیدواروں کی قسمت مہر بند ہوگئی ہے ۔ یہاں حکمراں اکالی دل ۔ بی جے پی اتحاد ، کانگریس اور عام آدمی پارٹی میں سہ رخی مقابلہ ہے ۔ پنجاب کے ترقی یافتہ عوام کو یہ قوی یقین ہے کہ انہوں نے اس مرتبہ عوام کے حق میں کام کرنے والی پارٹی کو ووٹ دیا ہے ۔ گوا میں بھی یہی تاثر قوی ہوا ہے ۔ یہاں بھی عوام کی اکثریتی رائے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف حکمرانی سوچ پیدا ہوچکی ہے ۔ مرکز کی حکمراں پارٹی بی جے پی کو ان دونوں ریاستوں سے زیادہ اترپردیش کی سیاسی بساط کو مضبوط کرنے میں دلچسپی ہے مگر پنجاب میں اگر بی جے پی کے خلاف ووٹ پڑرہے ہیں تو اترپردیش میں بھی اس سے مختلف رائے نہیں ہوگی ۔ نوٹ بندی کے بعد عوام کی اکثریت نے حکمراں پارٹی کے خلاف اپنی رائے کو تبدیل کرلیا ہے تو بلا شبہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا اقتدار ہوگا ۔ گوا ، یو پی میں بھی ان پارٹیوں کو ووٹ مل جائیں گے جنہوں نے عوام کے حق میں اچھے کام کرنے کی نیکنیتی دکھائی ہے۔ پنجاب میں اس مرتبہ انتخابی رخ بتارہا ہے کہ عوام بی جے پی سے بدظن ہوچکے ہیں ۔ موجودہ چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل اور بی جے پی سے نکل کر کانگریس میں شامل ہونے والے سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا مقابلہ اہم ہے ۔ امرتسر ایسٹ سے سدھو کی کامیابی یقینی ہوتی ہے تو تقریباً ایک دہے تک پنجاب پر حکمرانی کرنے والی بی جے پی شرومنی اکالی دل اتحاد بدترین ہزیمت کا شکار ہوگا ۔ کانگریس کو اس مخالف حکمرانی لہر کا بہترین موقع مل رہا ہے مگراس نے پنجاب کے رائے دہندوں کو اپنی جانب مکمل طور پر راغب کرانے میں کوئی خاص رول ادا نہیں کیا ۔ انتخابی مہم کے دوران ہی عوام کے رجحان کا اندازہ کرنے میں ناکام کانگریس قیادت کو تاہم اچھے ووٹ مل رہے ہیں تو یہ مخالف حکومت جذبہ کا مظہر ہوگا ۔ پنجاب کا کوئی بھی ر ائے دہندہ یہ کہنے سے گریز نہیں کررہا ہے کہ اس نے اس مرتبہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیا ہے ۔ اس طرح عام آدمی پارٹی کے حق میں 55 تا  60 فیصد ووٹ آرہے ہیں اور کانگریس کو 30 تا 35 فیصد ووٹ ملیں گے ۔ اکالی دل اتحاد صرف 5 تا 10 فیصد پر سمٹ کر رہ جائے گی ۔ پنجاب میں گزشتہ 10 سال کی حکمرانی کے دوران بی جے پی اکالی دل نے نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کیا ۔ پنجاب اس وقت منشیات کی لعنت سے شدید متاثر ہے ۔ نوجوانوں میں مشنیات لینے کا چلن عام ہوگیا ہے ۔ والدین اپنی بگڑتی اولاد سے فکر مند ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی روک تھام میں ناکام ہیں ۔ بے روزگاری اور نوٹ بندی کے مسئلہ سے پنجاب کے عوام کو حکومتوں کے خلاف اپنی برہمی ظاہر کرنے کا موقع دیا ہے ۔ اکالی دل اور بی جے پی اتحاد کو سال 2012 ء کے انتخابات میں 68 نشستیں ملی تھیں ۔ 2014 ء کے لوک سبھا حلقوں میں 45 اسمبلی نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ 2012 ء میں عام آدمی پارٹی کا وجود ہی نہیں تھا ۔ سال 2014 ء میں اسے 33 نشستیں حاصل ہوئی ہیں ۔ پنجاب میں برسوں سے ایک خاندان کی حکمرانی کے خلاف اپنی بیزارگی ظاہر کرنے والوں نے بھی اس مرتبہ کھل کر ووٹ دیا ہے ۔ پھر بھی پنجاب کی انتخابی نبض ٹٹولنے والوں نے یہ بھی اندیشہ ظاہر کرنے سے گریز نہیں کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اپنے اختیارات کے بیجا استعمال کے ذریعہ دھاندلیوں کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ۔ مودی کے شدید نفاذ اروند کجریوال نے پنجاب کی سرزمین پر اپنی پارٹی کے جڑوں کو مضبوط تو کرلیا ہے ۔ اس کی طاقت کا ثبوت /11 مارچ کے نتائج کے بعد ہی ملے گا لیکن کانگریس یہاں بھی ایک ضعیف ہاتھی ثابت ہوئی ہے تو وہ مرکز تک پہونچنے اپنی کوششوں کو رائیگاں کرے گی ۔ عام آدمی کے لئے پنجاب کا تجربہ ایک مثبت تبدیلی ہوگا ۔ کیوں کہ یہ انتخابات کا حل عوامی توقعات سے وابستہ ہیں جب عوام کی توقعات پورے ہوتے ہوں تو تو پھر تبدیلی کی لہر پر اڑ کر عوامی پارٹی اقتدار تک پہونچے گی ۔ منتخب حکومت کی ذمہ داری بڑھ جائے گی کہ وہ عوام کی توقعات کو پورا کرے ۔

TOPPOPULARRECENT