Tuesday , September 25 2018
Home / سیاسیات / پنجاب نیشنل بینک فراڈ پر راجیہ سبھا میں لگاتار شوروغل ، کارروائی ملتوی

پنجاب نیشنل بینک فراڈ پر راجیہ سبھا میں لگاتار شوروغل ، کارروائی ملتوی

متعدد اپوزیشن پارٹیوں کا دیگر کئی مسائل پر بھی احتجاج ، ایوان کے وسط میں پلے کارڈس لہرائے گئے ۔ لوک سبھا کارروائی میں بھی خلل

نئی دہلی ۔ 6 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں آج پی این بی بینک فراڈ ، آندھراپردیش کے لئے خصوصی پیاکیج اور کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کی تشکیل کیلئے مطالبہ کے بارے میں اپوزیشن کے شوروغل کے درمیان ایوان کی کارروائی کو بار بار ملتوی کرنا پڑا ۔ جیسے ہی ایوان دومرتبہ التواء کے بعد دوپہر2 بجے دوبارہ مجتمع ہوا ، ٹی ایم سی ارکان اور ٹاملناڈو اور آندھراپردیش کے لیجسلیٹرس ایوان کے وسط میں پہونچ کر نعرے بازی کرنے لگے ۔ مسلسل شوروغل کے مدنظر ڈپٹی چیرمین راجیہ سبھا پی جے کورین نے ایوان کو سہ پہر 3:30بجے تک اور پھر 3:35 بجے دن بھر کیلئے ملتوی کیا۔ اُدھر لوک سبھا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ رہی جہاں ایوان زیریں کی کارروائی کو صبح میں مختلف پارٹیوں بشمول این ڈی اے حلیف شیوسینا کی جانب سے مختلف النوع مسائل پر پرشور احتجاجوں کے درمیان ملتوی کرنا پڑا ۔ لوک سبھا کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ کر پلے کارڈس لہرانے لگے اور اُنھوں نے نعرے بھی لگائے ۔ شیوسینا ارکان کو مرہٹی کیلئے ’کلاسیکی زبان ‘ کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پلے کارڈس لہراتے دیکھا گیا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفۂ سوالات شروع کیا لیکن شوروغل کی وجہ سے اُنھوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی ۔ آل انڈیا انا ڈی ایم کے ، ٹی آر ایس ، ٹی ڈی پی اور شیوسینا کے ارکان کو اپنے پارٹی کی شناخت ظاہر کرنے والے روبس پہنے ہوئے تھے جس کے جواب میں کئی بی جے پی اراکین بھی شمال مشرقی ریاستوں کی تہذیب کی عکاسی کرنے والے لباس میں دیکھے گئے ۔ کانگریس ارکان نے بھی نعرے بازی کی جسے شوروغل میں واضح طورپر سنا نہ جاسکا ۔ راجیہ سبھا میں قبل ازیں جب ارکان معمول کی کارروائی کیلئے جمع ہوئے تب ٹی ڈی پی ، انا ڈی ایم کے اور ٹی ایم سی والوں نے ایوان کے وسط میں پہونچ کر پلے کارڈس لہرائے ، ڈپٹی چیرمین کورین نے احتجاجی ارکان کو تیقن دیا کہ اُنھیں یکے بعد دیگر سُنا جائے گا ۔ تاہم ارکان نے اپنے احتجاج کو جاری رکھا ۔ کورین نے کہاکہ کرسی صدارت کسی بھی موضوع پر مباحث کے انعقاد کی اجازت دینے تیار ہے لیکن آپ کا طرزعمل ایوان کی پرسکون کارروائی میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ ایوان میں پلے کارڈس لہرانا قواعد کے مغائر ہے ۔ ’’برائے مہربانی ایسا مت کیجئے ۔ آپ معزز اراکین کو باوقار انداز اختیار کرنا چاہئے ۔ آپ سے اس طرح کی توقع نہیں رہتی ہے ‘‘۔ انھوں نے کہاکہ بات چیت و مباحث ہی پارلیمانی جمہوریت میں مسائل حل کرنے کا درست طریقہ ہے اور میں حکومت سے اپیل کروں گا کہ آپ کے مسائل پر توجہہ دیں ۔ تاہم احتجاجی ارکان مطمئن نہیں ہوئے ، جس پر ایوان کو 3:30 بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔ مرکزی مملکتی وزیر برائے پارلیمانی اُمور وجئے گوئل کو بھی احتجاجی ارکان کو سمجھانے کی کوشش کرتے دیکھا گیا ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت مباحث کیلئے تیار ہے ۔ بینکنگ شعبہ میں بے قاعدگیاں آج سے نہیں بلکہ سالہا سال سے ہے ۔ ہم بینکنگ سسٹم میں بے قاعدگیوں اور دیگر مسائل پر بحث کیلئے تیار ہیں۔ حکومت اس موضوع پر راہِ فرار اختیار نہیں کررہی ہے ۔ قبل ازیں وقفۂ صفر کے دوران صدرنشین این وینکیا نائیڈو نے ایوان کو 11:30 بجے دن تک ملتوی کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT