Saturday , November 25 2017
Home / سیاسیات / پنجاب کی اتحادی حکومت دہشت گردی سے بھی بدتر : کانگریس

پنجاب کی اتحادی حکومت دہشت گردی سے بھی بدتر : کانگریس

نئی دہلی 14 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) پنجاب میں دلت نوجوانوں پر مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس اور بی ایس پی کے ارکان نے راجیہ سبھا میں نعرہ بازی کی جس کے نتیجہ میں لنچ سے قبل ایوان کی کارروائی کو چار مرتبہ ملتوی کردیا گیا ۔ بی جے ڈی کے ایک نئے رکن نریندر کمار سوائین کے حلف لینے اور صدر نشین حامد انصاری کی جانب سے سابق رکن شرد جوشی کے انتقال پر تعزیت پیش کئے جانے کے فوری بعد بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی اٹھ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے پنجاب میں ایک فارم ہاوز میں دو دلت نوجوانوں کے جسمانی اعضا کاٹے جانے کا مسئلہ اٹھایا ۔ جب کرسی صدارت کی جانب سے آج کے کام کاج کی تفصیل سنائی جا رہی تھی بی ایس پی اور کانگریس کے ارکان نے نعرہ بازی شروع کردی اور ایوان کے وسط میں پہونچ گئے ۔ ان ارکان نے دلت مخالف سرکار نہیں چلے گی کے نعرے لگائے اور ایوان کے وسط میں پہونچ گئے ۔ ان ارکان نے پنجاب میں شرومنی اکالی دل ۔ بی جے پی حکومت کو بیدخل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان پر ایوان میں بیان دینا شروع کیا اور انہوں نے ہند ۔ پاک تعلقات میں حالیہ واقعات بیان کئے ۔ منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت پنجاب میں پیش آئے واقعہ کی شدید الفاظ میںمذمت کرتی ہے اور وہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کرتی ہے تاہم ایک ریاست کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر ریاست کا مسئلہ ہے اور ریاستی حکومت پر خاطیوں کے خلاف کارروائی کے مسئلہ پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ نائب صدر نشین پی جے کورئین نے کہا کہ سشما سوراج ایوان میں ایک اہم بیان دے رہی ہیں اور وہ اس پر وضاحت کا موقع بھی دینگے تاہم ارکان ان کی بات سننے تیار نہیں تھے ۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ اگر انہیں کوئی مسئلہ ہے تو وہ اپنی نشست پر چلے جائیں انہیں بعد میں مسئلہ اٹھانے کا موقع دیا جائیگا ۔ انہوں نے ارکان سے درخواست کی کہ وہ اپنی نشستوں پر چلے جائیں۔ چونکہ ان کی اپیلیں بے اثر ثابت ہو رہی تھیں انہوںنے کہا کہ کچھ ارکان ایوان کو یرغمال بنا رہے ہیں ۔ یہ انتہائی افسوسناک ‘ غیر جمہوری عمل ہے کہ کچھ ارکان ایوان کو یرغمال بنا رہے ہیں۔ ایسے طرز عمل کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے 11.30 بجے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کردی ۔ جب کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا بی ایس پی اور کانگریس ارکان نے دوبارہ اپنا احتجاج شروع کردیا ۔ کورین نے احتجاجی ارکان کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان سے نشستوں پر واپس ہونے کو کہا تاہم احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ۔ نقوی نے کہا کہ خاطیوں کو سخت ترینسزائیں ملنی چاہئیں ۔ ریاستی حکومت کارروائی کر رہی ہے ۔ اس پر بھروسہ کیا جانا چاہئے ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ وقاعہ ایک فارم ہاوز میںپیش آیا اور الزام عائد کیا کہ پنجاب میں جنگل راج چل رہا ہے ۔ انہوںن ے کہا کہ 12 سال کی ایک لڑکی کو ایک گاڑی نے بھی کچل دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی اتحادی حکومت دہشت گردی سے بھی بدترین ہے ۔ ریاست میں کوئی لا اینڈ آرڈر نہیں ہے ۔ ریاستی حکومت کو برطرف کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ صرف خاطیوں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ حکومت کی برطرفی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT