Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / پنجاب کی مسجد چٹھیاں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال

پنجاب کی مسجد چٹھیاں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال

سکھ گرنتھی جیت سنگھ مغلیہ دور کی مسجد کی دیکھ بھال میں مصروف

سرہند ۔ 8 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) پنجاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کا ایک مثالی واقعہ میڈیا کی سرخیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے جس سے اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ اس سرحدی ریاست کے تاریخی شہر سرہندی میں مغلیہ دور کی یک مسجد کی سکھ گرنتھی کی طرف سے ضیافت و دیکھ بھال کی جاتی ہے اور صفائی کے علاوہ رنگ و روغن کیا جاتا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق یہ مسجد مہادیان گاؤں میں گردوارہ ست گڑھ صاحب چٹھیاں سے بہت قریب ہے اور گردوارہ کے گرنتھی جیت سنگھ اپنے دھرم کے فرائض کی انجام دہی کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود قریب ہی واقع مسجد کی دیکھ بھال کیلئے بھی وقت نکال لیتے ہیں ۔ گرنتھی جیت سنگھ نے کہا کہ وہ دن میں دو مرتبہ اس مسجد کی صفائی کرتے ہیں اور اس نیک کام کو وہ اپنا فرض تصور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ’’اگرچہ اس مسجد میں بہت کم مصلیاں آتے ہیں لیکن ہم نے کسی کو بھی نہیں روکا ۔ مصلیاں اس بات پر کافی خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ہم اس قدم مسجد کی دیکھ بھال کرتے ہیں ‘‘۔ پروفیسر راشد رشید جو فتح گڑھ صاحب کے ماتا گرجی کالج میں پنجابی پڑھاتے ہیں کہا کہ چٹھیاں مسجد اور گردوارہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال ہے جس پر ملک بھر میں تقلید کی جاسکتی ہے ۔ فرید کورٹ کے مورخ پروفیسر سبھاش پریھا نے کہاکہ ’’سرہند کی تاریخ اور تعمیری آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسجد بہت ممکن ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں 1628 ء اور 1658 ء کے درمیان تعمیر کی گئی تھی ۔ گرنتھی جیت سنگھ نے کہاکہ ہم نے مسجد چٹھیاں کا نام نہیں بدلہ جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم کسی مذہب کی بداحترامی نہیں کرتے ۔

TOPPOPULARRECENT