Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / پنجوقتہ نمازوں کے بعد دعا کا صحیح طریقہ اور نماز میں ٹوپی کی اہمیت

پنجوقتہ نمازوں کے بعد دعا کا صحیح طریقہ اور نماز میں ٹوپی کی اہمیت

سوال : ۱۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پنجوقتہ نمازوں کے بعد کونسے اذکار پڑھنا چاہئے اور ان کے پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے  ؟
۲۔  کیا ظہر، مغرب اور عشاء کی فرض نمازوں کے ساتھ ہی سنت و دیگر نمازوں کی ادائیگی سے پہلے ذکر و اذکار میں مشغول ہونا صحیح ہے  ؟
۳۔  نمازوں میں ٹوپی پہننے کی اہمیت کیا ہے وضاحت فرمائیں ؟  بینوا تؤجروا
جواب: ۱ ۔  ۲۔شرعاً جن نمازوں کے بعد سننِ رواتبہ ہیں ان میں فرض کی ادائی کے بعد اتنی مقدار بیٹھنا ہے، جس میں یہ دعا پڑھی جائے ’’أللھم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام‘‘۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لم یقعد اِلا مقدار ما یقول أللھم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام۔ (رواہ مسلم، مشکاۃ المصابیح باب الذکر بعد الصلوۃ)۔ اور جن نمازوں کے بعد سننِ رواتبہ نہیں، ان میں کا فرض کی ادائی کے بعد اور جن نمازوں کے سنن ہیں ان میں بعد ادائی سننِ رواتبہ تینتیس مرتبہ تسبیح (سبحان اﷲ)، تینتیس مرتبہ تحمید (الحمدﷲ)، اور چونتیس مرتبہ تکبیر (أﷲ أکبر) پڑھے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اسکو پڑھنے والا مایوس نہ ہوگا۔ عن کعب بن عجرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم معقبات لا یخیب قائلھن أو فاعلھن دبر کل صلاۃ مکتوبۃ ثلٰث و ثلثون تسبیحۃ و ثلٰث و ثلثون تحمیدۃ و اربع وثلٰثون تکبیرۃ۔
(رواہ مسلم، مشکاۃ المصابیح باب الذکر بعد الصلوات)
لہذا ظہر، مغرب اور عشاء کی فرائض کے بعد سننِ رواتبہ ہیں، ان میں ’’أللھم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام‘‘ کے علاوہ دیگر اذکار کرنا، تاخیر کا باعث ہوگا۔ جس سے ثواب میں کمی ہوگی، لہذا نہیں کرنا چاہئے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب الصلاۃ باب فی النوافل ص ۱۱۳ میں ہے:  أما السنن التی بعد الفرائض فیأتی بھا فی المسجد فی مکان صلی فیہ فرضہ والأولی ان یتخطی خطوۃ والامام یتأخر عن مکان صلی فیہ فرضہ لا محالۃ کذا فی الکافی … ولو تکلم بعد الفریضۃ ھل تسقط السنۃ، قیل تسقط وقیل لا ولکن ثوابہ أنقص من ثوابہ قبل التکلم کذا فی النہایۃ۔
۳۔شرعاً ٹوپی پہننا سرکار دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد ۵ باب فی اللبس وما یکرہ من ذلک و مالا یکرہ ص ۳۳۰ میں ہے :  ولا بأس بلبس القلانس و قد صح انہ صلی اﷲ علیہ وسلم کان یلبسھا کذا فی الوجیز للکردری۔ حالت نماز میں سر کھلا رکھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اگر تذلل کی غرض سے ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اگر نماز کی اہانت کی غرض سے ہو تو کفر ہے۔ درمختار بر حاشیہ ردالمحتار جلد اول مطلب فی مکروہات الصلاۃ ص ۴۷۴ میں ہے :  (وصلاتہ حاسرا) کاشفا (رأسہ للتکاسل)، فلا بأس بہ للتذلل و أما للاھانۃ فکفر۔
کھیکڑے کا حکم
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھیکڑا بطور غذا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں   ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  عندالاحناف مچھلی کے سوا تمام آبی جانور حرام ہیں ولا یؤکل ما فی البحر سوی السمک … کل ما یعیش فی الماء حرام الا السمک۔ فتاوی حمادیہ ص ۷۷۷۔ بریں بناء کھیکڑے کا استعمال بطور غذا حرام ہے۔

TOPPOPULARRECENT