Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پنشن پورہ عیدگاہ اور محمدی قبرستان کی کمیٹی کو برخاست کرنے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ سے نمائندگی

پنشن پورہ عیدگاہ اور محمدی قبرستان کی کمیٹی کو برخاست کرنے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ سے نمائندگی

حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : موقوفہ جائیدادوں کو مفادات حاصلہ سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مساجد ، عیدگاہوں اور قبرستانوں کی کمیٹیوں میں دیانتدار ، علم دین سے واقف صاف و شفاف کردار کے حامل لوگوں کو شامل کیا جائے اور ملت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد اور کمیٹیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ آج شہر میں قیمتی اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے کیے جارہے ہیں ۔ شہر اور مضافاتی علاقوں میں کئی مساجد غیر آباد ہیں ، ان کی قیمتی اوقافی اراضیات پر غیر مجاز تعمیرات کرلی گئیں ہیں ۔ قبرستانوں کا وجود مٹایا جارہا ہے ۔ تباہی و بربادی کے اس سلسلہ کو روکنے کے لیے سب سے اہم عہدیداروں کا دیانتدار ہونا ضروری ہے تب ہی جمہوری و قانونی ہر سطح پر موقوفہ جائیدادوں کے دشمنوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سابق رکن پارلیمنٹ جناب سید عزیز پاشاہ اور دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی کے سربراہ جناب عثمان بن محمد الہاجری نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال سے بات چیت کے دوران کیا ۔

جناب عزیز پاشاہ کی قیادت میں دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی کے ایک وفد نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال آئی پی ایس سے نمائندگی کی کہ وہ پنشن پورہ عیدگاہ اور محمدی قبرستان لنگر حوض حیدرآباد کی منظورہ کمیٹی کو برخاست کردیں کیوں کہ یہ کمیٹی سیاسی مقاصد و مفادات کی تکمیل کے لیے منظور کروائی گئی ہے ۔ اس ضمن میں آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ کی کارروائی نمبر 23/HYD/C/2012/Z-1 مورخہ 8-5-2013 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ اسپیشل آفیسر اے پی اسٹیٹ وقف بورڈ سے کی گئی نمائندگی میں جنرل سکریٹری پنشن پورہ عیدگاہ و محمدی قبرستان پنشن پورہ لنگر حوض میر سرور علی فرزند میر قادر علی مرحوم ساکن پنشن پورہ نے تفصیلی طور پر حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ عیدگاہ اور قبرستان 7.35 ایکڑ ( گنٹوں ) پر محیط ہے اور یہ درج وقف جائیداد نہیں ہے جب کہ اس کھلی اراضی پر بزرگ حضرات کی مدد سے مقامی آبادی گذشتہ ساٹھ برسوں سے عیدگاہ کی حیثیت سے استعمال کررہی ہے اور ساتھ ہی اس سے متصل قبرستان میں میتوں کی تدفین بھی عمل میں آتی ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وقف منتخب اور کسی بھی گزٹ اعلامیہ میں اس جائیداد کا نام درج نہیں ہے بلکہ یہ اراضی محکمہ دفاع کی ہے اور سرکاری طور پر ان کے ہی قبضے میں ہے ۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو پیش کردہ نمائندگی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمہ دفاع کے حکام نے عیدین کی نمازوں کی ادائیگی اور اراضی پر میتوں کی تدفین میں رکاوٹیں پیدا کی جس پر کمیٹی کے ارکان اور مقامی بزرگوں نے دفاع کے حکام اور ریاستی حکومت سے عیدگاہ اور قبرستان کے لیے یہ اراضی مسلمانوں کے حوالے کرنے کی درخواستیں کیں اس سلسلہ میں مقامی مسلمانوں نے سرتاج محمد خان کی صدارت میں پنشن پورہ عیدگاہ و قبرستان ویلفیر کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی قائم کی اور مجھے ( میر سرور علی ) کو اس کا سکریٹری منتخب کیا گیا ۔

جس کے ساتھ ہی ہم نے محکمہ دفاع اور ریاستی حکومت سے اس سوسائٹی کے نام اراضی جاری کرنے مراسلتوں کا سلسلہ شروع کیا تاکہ مسلمانوں کو نماز عیدین کی ادائیگی اور میتوں کی تدفین میں سہولت ہوسکے ۔ ہماری مراسلتوں اور نمائندگیوں پر محکمہ دفاع کے حکام کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت نے غور کیا اور پھر کافی تگ و دو کے بعد ریاستی حکومت نے محکمہ دفاع کو اس اراضی کے بدلے جواہر نگر میڑچل تعلقہ میں 86 ایکڑ اراضی حوالے کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے محکمہ دفاع سے جملہ 55 ایکڑ حاصل کیا تب ہی میڑچل میں 86 ایکڑ اراضی دی گئی ۔ حصول اراضی کے ضمن میں گولکنڈہ منڈل نے ایک مکتوب نمبر C/3310/93 مورخہ 20-12-1994 جاری کیا ۔ اس کے بعد ڈیفنس اور ریاستی محکمہ مال کے عہدیداروں نے ایک مشترکہ سروے کیا اور یہ سروے پنشن پورہ عیدگاہ اور قبرستان ویلفیر کمیٹی کے ارکان و عہدیداروں کی موجودگی میں پائے تکمیل کو پہنچا اور پھر ریاستی حکومت نے 30-04-2007 کو محکمہ مال کے حکام سے قبضہ حاصل کرتے ہوئے 5.63 ایکڑ اراضی کو پنشن پورہ عیدگاہ اور قبرستان کی حیثیت دے دی اور اس کا سروے نمبر 197/2 Ts No.1/Part وارڈ نمبر 18 ، بلاک B موقوعہ گولکنڈہ منڈل حیدرآباد میں ذکر بھی کیا گیا اور ہماری کمیٹی کو عیدگاہ و قبرستان کے امور دیکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔ ویسے بھی 1994 سے ہماری سوسائٹی اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہی ہے ۔ تاہم چند مفادات حاصلہ نے عیدگاہ و قبرستان کی اراضی کے علاوہ باقی 2.25 ایکڑ اراضی پر نیت خراب کرتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ خدمات انجام دینے والی کمیٹی کو برخاست کروانے کی ناپاک کوشش شروع کیں اور سیاسی دباؤ میں آکر وقف بورڈ نے مفادات حاصلہ کے اشاروں پر کام کرنے والی کمیٹی کو منظوری دے دی حالانکہ ہم نے 10-10-2012 کو وقف بورڈ کو پیش کردہ اپنی درخواست میں نہ صرف ان جائیدادوں کو درج وقف کرنے بلکہ دیانتدار افراد پر مشتمل کمیٹی کو منظور کرنے کی التجا کی تھی ۔ لیکن اس پر غور نہیں کیا گیا غیر مجاز کمیٹی کی منظوری کے خلاف حقیقی کمیٹی نے اے پی اسٹیٹ وقف ٹریبونل حیدرآباد میں ایک مقدمہ نمبر او اے نمبر 19/2013 دائر کیا ہے ۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال آئی پی ایس سے ان حقائق کی روشنی میں مفادات حاصلہ کے اشاروں پر منظورہ کمیٹی کو برخاست کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ وفد میں عیدگاہ و قبرستان کمیٹی کے ارکان ، جناب سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ ، جناب محمد ریاض الدین صدر کمیٹی ، جناب سلیم حسین نائب صدر ، محمد شہاب الدین ، محمد افضل خاں ، جناب سید جعفر ، جناب محمد عظیم الدین ، جناب محمد مظہر الدین ، جناب محمد مظفر الدین ، جناب وقار حسین ایڈوکیٹ مسلم لیگ ، محمد احمد شریف اور دیگر شامل تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT