Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / پنچایت اداروں کے مقررہ مدت سے قبل انتخابات کی تیاریاں

پنچایت اداروں کے مقررہ مدت سے قبل انتخابات کی تیاریاں

… (دیہی سطح پر ٹی آر ایس کمزور) …
پنچایت اداروں کے مقررہ مدت سے قبل انتخابات کی تیاریاں
پارٹی کے موقف کا جائزہ لینے کی کوشش ، چیف منسٹر کی وزراء اور عوامی نمائندوں سے مشاورت

حیدرآباد۔/30ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حکومت کے 3 سال کی تکمیل پر عوامی رائے جاننے اور پارٹی کے موقف کا جائزہ لینے کیلئے پنچایت انتخابات کو مقررہ وقت سے قبل منعقد کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2019 کے انتخابات میں پارٹی کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے کے سی آر پنچایت انتخابات کو تجربہ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ریاست میں پنچایت اداروں کی میعاد اگرچہ جولائی 2018 میں ختم ہوگی لیکن بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اپریل یا مئی میں انتخابات کے انعقاد کے حق میں ہیں تاکہ بنیادی سطح پر ٹی آر ایس کی طاقت اور کمزوریوں کا پتہ چلایا جاسکے۔ ٹی آر ایس کے ذرائع نے کہا کہ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں وزراء اور قائدین کے ساتھ سرگرم مشاورت کی ہے۔ کے سی آر پنچایت راج اداروں کو مزید مستحکم کرنے اور انہیں اختیارات اور فنڈز کی فراہمی کے سلسلہ میں قانون میں ترمیم کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے وزراء، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی سے مشاورت کی اور ان کے حلقوں میں پنچایت کی سطح پر پارٹی کے موقف کے بارے میں رپورٹ حاصل کی۔ پارٹی قائدین بھی پنچایت انتخابات کے مقررہ مدت سے قبل انعقاد کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل پنچایت چناؤ سے پارٹی کو اپنی طاقت کا اندازہ کرنے میں مدد ملے گی۔ دیہی علاقوں میں جہاں پارٹی ووٹ بینک ہے ٹی آر ایس قیادت رائے دہندوں کی رائے اور حکومت کی کارکردگی پر ان کے اعتماد کا جائزہ لیناچاہتی ہے۔ ٹی آر ایس کو حالیہ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی دیہی علاقوں میں حکومت کے خلاف مہم چلارہے ہیں اور تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھی اس مہم میں اہم رول ادا کررہی ہے۔ دیہی علاقوں میں مخالف حکومت سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام ٹی آر ایس پنچایت انتخابات کے ذریعہ اپنی طاقت کا اندازہ کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت 2018 میں وسط مدتی انتخابات کی تیاری میں ہے ایسے میں ٹی آر ایس پنچایت الیکشن کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ بنیادی سطح پر وہ مستحکم ہے اور 2019 میں پارٹی کی کامیابی کو کوئی خطرہ نہیں۔2014 میں ٹی آر ایس کو 119 کے منجملہ 62 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ بعد میں پارٹی میں تلگودیشم، کانگریس، وائی ایس آر کانگریس، سی پی آئی اور بی ایس پی کے ارکان نے شمولیت اختیار کی اور دو سال میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد بڑھ کر 90 ہوگئی۔ ریاست میں ہوئے ضمنی انتخابات اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر کارپوریشنوں کے انتخابات میں گزشتہ دو برسوں میں پارٹی نے شاندار مظاہرہ کیا۔2017 میں کوئی الیکشن نہیں ہوا جس کے باعث پارٹی اپنی طاقت کا اندازہ نہیں کرسکی۔ چیف منسٹر نے رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی کا استعفی دلاکر نلگنڈہ لوک سبھا نشست پر ضمنی انتخاب کی کوشش کی تھی لیکن سینئر قائدین نے موجودہ حالات میں اس کی مخالفت کی اور کہا کہ پارٹی کی شکست کی صورت میں اس کا اثر 2019 کے انتخابات پر پڑیگا اور کانگریس کے حوصلے بلند ہوں گے۔ سکھیندر ریڈی نے حال ہی میں کانگریس پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیارکرلی ہے۔

TOPPOPULARRECENT