Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / پنچایت راج کی نئی قانون سازی سے قبل کل جماعتی اجلاس پر زور

پنچایت راج کی نئی قانون سازی سے قبل کل جماعتی اجلاس پر زور

خانگی اسکول فیس میں من مانی پر اظہارتشویش، محمد علی شبیر قائد اپوزیشن کونسل کا بیان
حیدرآباد ۔ 13 جنوری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے پنچایت راج کی نئی قانون سازی سے قبل کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا۔ خانگی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پر تشویش کا اظہار کیا۔ سپریم کورٹ کے چار ججس کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو داخلی معاملہ قرار دینے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مرکز کو مشورہ دیا۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ گاندھی جی کے خوابوں کی تکمیل کرنے اور دیہی علاقوں کو ترقی دینے کیلئے آنجہانی سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے دستورہند کے دفعات 73-74 میں ترمیم کرتے ہوئے گرام پنچایتوں کو مکمل اختیارات دیئے تھے۔ ناتجربہ کار چیف منسٹر کے سی آر اس قانون میں بھی ترمیم کرنے کیلئے وزراء کی سب کمیٹی کے ذریعہ تجاویز طلب کررہے ہیں۔ ماضی میں تلنگانہ حکومت نے قانون حصول اراضیات 2013ء میں ترمیمات کی جس کے کئی نکات عدالتوں میں کشاکش کا شکار ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات، 10 فیصد ایس ٹی تحفظات پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ اضلاع کی تنظیم جدید کو 2 سال مکمل ہونے کے باوجود مرکزی حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی صدرجمہوریہ ہند نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے ٹیچرس اور دوسرے تقررات 10 اضلاع کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں 8690 گرام پنچایت ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے ابھی تک 4 بجٹ پیش کیا۔ ہربار گرام پنچایتوں کو نظرانداز کیا۔ اس مرتبہ چیف منسٹر کو گرام پنچایتوں سے جو ہمدردی ہورہی وہ حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے مرکز سے جو فنڈز وصول ہورہے ہیں، ٹی آر ایس حکومت برقی بلز ادا کرنے پر خرچ کررہے ہیں۔ این آر آئی کو کوآپشن ممبر بنانے پر غور کیا جارہا ہے جبکہ ٹی آر ایس اقتدار کے 4 سال مکمل ہوگئے مگر ابھی تک این آر آئی پالیسی تیار نہیں ہوئی۔ محمد علی شبیر نے خانگی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے تروپتی راؤ کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی فیس میں کمی کرنے کی تجویز پیش کرنے کے بجائے 10 فیصد فیس میں اضافہ کرنے کی سفارش کردی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی میں اور ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کونسل میں فیس کنٹرول کرنے کا تیقن دیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر فوری معذرت خواہی کریں۔ برقی مباحث کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کے سی آر مباحث میں شامل ہورہے ہیں تو وہ چیلنج قبول کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ وزارتی تجربہ میں وہ کے سی آر سے سینئر ہے۔ سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست تشکیل دی اور وہ قسمت سے چیف منسٹر بن گئے۔ وہ جب وزیر برقی تھے، انہوں نے جینکو کے ذریعہ 8000 میگاواٹ برقی پراجکٹس کا آغاز کیا تھا، جس سے آج برقی حاصل ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ کے تنازعہ اور 4 ججس کے اٹھائے گئے سوال پر محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس چلمیشور کا ریاست سے تعلق ہے اور معزز ججوں میں ان کا شمار ہوتا ہے جن پر ہم کو فخر ہے۔ انہوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ قابل غور ضرور ہیں۔ مرکزی حکومت سپریم کورٹ کا داخلی معاملہ قرار دے کر ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار ججس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنا مدعا عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT