Friday , November 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / پنچایت مزدوروں کے احتجاج میں شدت، پولیس کے ساتھ دھکم پہل

پنچایت مزدوروں کے احتجاج میں شدت، پولیس کے ساتھ دھکم پہل

نظام آباد:12؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)میونسپل گرام پنچایت مزدور 42 دن سے ہڑتال کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات نہ کرنے پر سی آئی ٹی یو کی قیادت میں  میونسپل گرام پنچایت مزدوروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کلکٹریٹ پہنچنے پر پولیس نے گرفتار کرلیا۔ سی آئی ٹی یو کے قائدین پربھاکر، ونا مالا کرشنا، نورجہاں، سدی راملو، رمیش بابو، بھومیا و دیگر قائدین نے دھرنا چوک سے ریالی کے ذریعہ ریلوے اسٹیشن، ایس پی کیمپ آفس سے ہوتے ہوئے کلکٹریٹ پہنچنے پر پولیس نے انہیں روک دیا۔جس پر مزدور قائدین کے درمیان بحث و مباحثہ کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔خاتون مزدور دھکم پیل میں بے ہوش کرگر گئی انہیں فوری دواخانہ منتقل کیا گیا۔پولیس نے حالات کو قابو میں کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو قائدین کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔اس موقع پر سی آئی ٹی یو قائدین نے بتایا کہ گذشتہ 42 دنوں سے ہڑتال کے باوجود حکومت میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں آرہی ہے۔ جمہوری انداز میں احتجاج کرنے والے مزدوروں پر پولیس زیادتی کرتے ہوئے گرفتار کرنا سراسر غلط ہے۔ فوری مزدوروں کے مسائل کی یکسوئی کرتے ہوئے ہڑتال کو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔

نارائن پیٹ میں صفائی کی
صورتحال سنگین
نارائن پیٹ /12 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نارائن پیٹ میں بلدی کنٹراکٹ ملازمین کی اپنے مطالبات کی یکسوئی کیلئے کی گئی غیر معینہ مدت کی ہڑتال سے شہر کی صفائی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے ۔ حالیہ بارش سے یہ صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوگئی ۔ واضح رہے کہ بلدیہ نارائن پیٹ کے کنٹراکٹ صفائی ملازمین جن کی تعداد 108 ہے۔ اپنے دیرینہ مطالبات کو لیکر CITU کی تائید سے ریاست گیر ہڑتال میں شامل ہیں ۔ مستقل بنیاد پر صرف 24 ملازمین کام سے رجوع ہیں ۔ جن کے ذریعہ پورے شہر کی صفائی ناممکن ہے۔ حالیہ بارش سے گلی کوچوں میں جمع کچرے میں تعفن پیدا ہوگیا ہے ۔ جس سے بڑے پیمانے پر وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ مسلسل بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگئے اور ڈرینوں کے ابل جانے سے گندہ پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے ۔ ہر طرف تعفن اور گندگی نظر آرہی ہے ۔ محکمہ بلدیہ اس جانب فوری توجہ نہ دیں تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT