Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / پنڈتوں کی سیاسی پیش قیاسیاں بکواس

پنڈتوں کی سیاسی پیش قیاسیاں بکواس

محض سیاسی پارٹیوں کی خوشامد پسندی ، وی ہنمنت راؤ کا بیان
حیدرآباد ۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے پنڈتوں کے سیاسی پیش قیاسیوں کو بکواس قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو خوش کرنے کی کوشش میں عوام کے اعتماد سے محروم ہوجانے کا دعویٰ کیا۔ نرسمہن پر گورنر گری چھوڑ کر پیش قیاسی کرنے اور عوام کیلئے مصیبت بن جانے کا الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہاکہ اگادی کے موقع پر پنڈتوں کی جانب سے کی جانے والی پیشن گوئی اہمیت کے حامل ہوا کرتی تھی۔ کسان یہ امیدیں لگائے بیٹھتے تھے کہ پنڈت بارش اچھی ہونے، فصلیں اچھی ہونے، ان کی تیار کردہ کاشت کو اعظم ترین قیمت وصول ہونے، ریاست اور مرکز میں امن و امان ہونے اور ترقی کے بارے میں اچھی باتیں سننے کو ملنے کی توقع رکھتے تھے مگر پنڈتوں نے پیش قیاسیوں کو تجارت میں تبدیل کردیا۔ کانگریس، تلگودیشم حکومت وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور بی جے پی کے آفسوں میں منعقد ہونے والے (پنچاگم) پیش قیاسی پروگرام میں پنڈت جس سیاسی جماعت کے دفتر میں جارہے ہیں، اس پارٹی کے حق میں بات کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر گاندھی بھون میں منعقدہ پروگرام میں ایک پنڈت نے توقع کے مطابق بارش نہ ہونے کی پیش قیاسی کی ہے۔ وہی رویندرا بھارتی میں منعقدہ حکومت کے پروگرام میں پنڈت نے شاندار بارش ہونے کی پیش قیاسی کرتے ہوئے دو محکمہ جات تعلیم اور صحت میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہونے کی پیش قیاسی کرتے ہوئے کڈیم سری اور لکشماریڈی کے وزارت کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ بڑی ہی حیرت کی بات ہیکہ وائی ایس آر کانگریس کے دو ارکان اسمبلی تلگودیشم میں شامل ہورہے ہیں اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں منعقدہ پروگرام میں پنڈت نے جگن موہن ریڈی کا روشن مستقبل ہونے وائی ایس آر کانگریس پارٹی مستحکم ہونے اور جو ارکان اسمبلی پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں ان کا مستقبل تاریک ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔ بی جے پی آفس میں منعقدہ ایک تقریب میں پنڈت نے وزیراعظم نریندر مودی کا مستقبل روشن ہونے اور ریاست میں بی جے پی مستحکم ہونے پیش قیاسی کی ہے۔ تلگودیشم کے پروگرام میں تھوڑے دن چندرا بابو نائیڈو کیلئے ٹھیک نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پارٹی قائدین کو زبان پر لگام دینے کی بات کہی گئی ہے۔ پنڈت سیاسی اثرورسوخ کو قبول کرتے ہوئے انہیں خوش کرنے کیلئے من مانی پیش قیاسی کررہے ہیں۔ انہوں نے گورنر نرسمہن پر بھی ایک دن قبل ہی روایت سے ہٹ کر پیش قیاسی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری ذمہ داریوں سے زیادہ پوجاپاٹ پر توجہ دے رہے ہیں۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی بھی برہمن ہے مگر انہوں نے کبھی کپڑے نہیں اتارے۔ گورنر نرسمہن کپڑے نکال کر تروپتی کے علاوہ دوسرے منادر میں گھنٹوں پوجاپاٹ کرتے ہوئے دوسرے عقیدتمندوں کی پوجاپاٹ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT