Monday , June 25 2018
Home / سیاسیات / پنڈت نہرو کیرالا میں کمیونسٹ وزارت کے خلاف جدوجہد میں پرجوش نہیں تھے : وی آر کرشنا ایّر

پنڈت نہرو کیرالا میں کمیونسٹ وزارت کے خلاف جدوجہد میں پرجوش نہیں تھے : وی آر کرشنا ایّر

ترواننتاپورم۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیرالا کی اولین کمیونسٹ وزارت کے خلاف ’’نجات کی جنگ‘‘کو کانگریس کی تائید کے بارے میں کچھ تحفظات رکھتے تھے۔ کیرالا میں ای ایم ایس نمبودری پد کی زیرقیادت 1957ء میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تھی جسے دو سال بعد برطرف کردیا گیا۔ نام

ترواننتاپورم۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیرالا کی اولین کمیونسٹ وزارت کے خلاف ’’نجات کی جنگ‘‘کو کانگریس کی تائید کے بارے میں کچھ تحفظات رکھتے تھے۔ کیرالا میں ای ایم ایس نمبودری پد کی زیرقیادت 1957ء میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تھی جسے دو سال بعد برطرف کردیا گیا۔ نامور قانون داں وی آر کرشنا ایّر نے یہ انکشاف کرتے ہوئے دوردرشن کو کچھ عرصہ قبل انٹرویو دیا۔ وہ نمبودری پد حکومت میں شامل تھے۔ سینئر صحافی آر اجیت کمار کو دیا ہوا انٹرویو کل شام نشر کیا گیا۔ تاریخ وار واقعات کے سلسلے میں ماضی میں دوردرشن کئی انٹرویوز نشر کرچکا ہے جو ریاستی وزیر داخلہ رمیش چنی تھالا نے جاری کئے تھے اور اس کی پہلی نقل سی پی آئی ایم کی پولیٹ بیورو کے رکن ایم اے بے بی کے حوالے کی جاچکی ہے۔ ایّر کے بموجب نمبودری پد نے انہیں ہدایت دی تھی کہ پنڈت نہرو سے ملاقات کریں، جبکہ اوٹی میں کل ہند کانگریس کا اجلاس جاری تھا۔ اس ملاقات کے دوران ایّر نے نہرو کی کیرالا میں منتخبہ حکومت کو برطرف کرنے کی جدوجہد کے بارے میں بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو کانگریس کی تائید حاصل ہے۔ نہرو کا جواب یہ تھا کہ کیا کانگریس کیرالا میں یہی کچھ کررہی ہے۔ اس کے بعد نہرو نے اپنی دُختر اندرا گاندھی کو طلب کیا تھا جو اس وقت کل ہند کانگریس کی صدر تھیں اور ان سے کہا تھا کہ جو کچھ ایّر کہنا چاہتے ہیں ، وہ سنے۔ اندرا گاندھی نے میری تمام باتیں سنیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ ایّر نے جو حال ہی میں 100 سال کے ہوچکے ہیں ، کئی اہم وزارتوں بشمول داخلہ اور آبپاشی پر فائز رہ چکے ہیں۔ نمبودری پد حکومت نجات کی جدوجہد کے عروج پر برطرف کردی گئی تھی۔ اس تحریک کو کیتھولک کلیسا اور دیگر تنظیموں جیسے نائر سرویس سوسائٹی کی تائید بھی حاصل تھی۔

TOPPOPULARRECENT