Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / پنڈت نہرو کی سیکولر اور سوشلسٹ وراثت پر نظریاتی حملے

پنڈت نہرو کی سیکولر اور سوشلسٹ وراثت پر نظریاتی حملے

کارپوریٹ سیکٹر بھی احسان ناشناس، نامور مؤرخ عرفان حبیب کا ریمارک
نئی دہلی۔/6نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ممتاز تاریخ داں عرفان حبیب نے آج جواہر لال نہرو کے کٹر ناقدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے نظریاتی اتالیقوں کا قومی تحریک میں کوئی رول نہیں تھا وہی اب ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کی خدمات اور کارناموں کی اہمیت کو گھٹادینے کی کوشش میں ہیں۔ پنڈت نہرو کی 125 ویں یوم پیدائش تقریب کے پیش نظر ایک قومی کانفرنس میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے 84سالہ اسکالر نے کہا کہ دور حاضر میں قومی تحریک کو نہ صرف فراموش کردیا جارہا ہے بلکہ جارحانہ طریقہ پر غلط تشریح اور تاویل پیش کی جارہی ہے۔ بالخصوص پنڈت نہرو کی عظیم وراثت کو ایسے لوگ ضرب لگارہے ہیں جن کے نظریاتی اتالیقوں کا قومی تحریک میں کوئی عمل دخل نہیں تھا جبکہ دوروزہ قومی کانفرنس کا افتتاح سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ لوگ قومی تحریک کے خلاف تھے اور اب اس تحریک میں اپنے مجاہدین اور سورماؤں کو تلاش کررہے ہیں جس کی خاطر وہ بابائے قوم اورجواہر لال نہرو کے خلاف منفی مہم چلا رہے ہیں۔ جس کے پیش نظر قومی تحریک میں پنڈت نہرو کے رول کو اُـاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جس تنظیم نے کراچی کی قرارداد منظور کی تھی اس نے ہی فراموش کردیا ہے جبکہ تحریک عدم تعاون سے دستبرداری کے بعد پنڈت نہرو کی تیار کردہ قرار داد میں ایک سیکولراور سوشلسٹ ہندوستان کا تصور پیش کیا گیا تھا اور مہاتما گاندھی نے اس قرارداد میں دیہی ہندوستان کی ترقی پر توجہ مبذول کروائی تھی۔ جناب عرفان حبیب نے یہ نشاندہی کی کہ اگرچیکہ نہرو مذہبی شخص نہیں تھے لیکن گاندھی جی کٹر مذہبی آدمی تھے اور نہرو کو اپنا سیاسی جانشین تسلیم کرلیا تھا اور سردار پٹیل نے بھی اس نکتہ سے اتفاق کرلیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنڈت نہرو کی بدولت لاکھوں کسانوں کو زرعی اراضیات پر مالکانہ حقوق حاصل ہوئے جن کا یہ نعرہ تھا کہ ’’ ہل چلانے والے کی زمین ہوگی‘‘۔ انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر کو احساس ناشناس قرار دیا جس نے نہرو کے رول اور خدمات کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے نہرو کی وراثت کے تحفظ کیلئے انتخابی اتحاد کے قطع نطر ایک وسیع پلیٹ فارم تشکیل دینے پر زور دیا اور کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کا غلبہ قوم کی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا اور ہندوستان کی ترقی کے معنی کارپوریٹ سیکٹر کی خوشحالی نہیں ہے جو کہ دو متضاد باتیں ہی۔

TOPPOPULARRECENT