Friday , November 24 2017
Home / مضامین / پوتین اور ٹرمپ کا یکساتھ اقتدار خطرہ؟

پوتین اور ٹرمپ کا یکساتھ اقتدار خطرہ؟

عرفان جابری

ڈونالڈ ٹرمپ نے جب امریکی صدارت کا حلف لیا تو روس کی سیاسی قیادت اور سرکاری صحافت نے بلاجھجک خوشی کا اظہار کیا ہے۔ پرانا نظم و نسق ختم ہوا، اور اس کے ساتھ ولادمیر پوتین کے عزائم کیلئے رکاوٹ بھی ہٹ گئی۔ ’’1917ء میں لینن کے مسلح حامیوں نے ونٹر پیالس پر ہلہ بول کر سرمایہ دار وزیروں کو گرفتار کرتے ہوئے سماجی سیاسی نظام کی حکمرانی ختم کردی تھی‘‘ یہ ایک موقر روسی روزنامہ میں نمایاں طور پر شائع مضمون کے الفاظ ہیں۔ اس میں مزید لکھا گیا: ’’20 جنوری 2017ء کو اگرچہ واشنگٹن میں کسی نے بھی کانگریس یا وائٹ ہاؤس پر ہلہ کرنے اور پرانے نظم و نسق کے نمایاں اراکین کو برقی کھمبوں سے لٹکا دینے کا منصوبہ نہیں بنایا، لیکن امریکی اعلیٰ سیاسی طبقہ بالخصوص اس کے معتدل گوشے کا احساس ایک سو سال قبل روسی سرمایہ دار طبقہ کے جذباتی تاثر سے کچھ مختلف نہیں ہے۔‘‘
روسی چیانل پر ’’نیوز آف دی ویک‘‘ کے میزبان دمتری کسیلوف نے ایسے الزامات کو  بے بنیاد خیال قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ ٹرمپ نسل پرست ہے اور نئے امریکی صدر کے جنس پرستانہ اور معاندانہ ریمارکس ’’وقتی ہیجان‘‘ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ کسیلوف نے کہا، ’’ٹرمپ دراصل حقیقی معنوں میں مرد ہے۔ انھوں نے اپنی صدارت کے پہلے ہی روز سرکاری وائٹ ہاؤس ویب سائٹ سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کی حفاظت پر زور دینے والے سیکشن کو حذف کرا دیا۔ انھوں نے کبھی اس رجحان کی تائید نہیں کی۔ وہ ہمیشہ روایتی خاندان کے اقدار کے حامی رہے ہیں‘‘۔
کوئی بھی معقول تجزیہ نگار نہیں مانتا ہے کہ روس کی امریکہ اور یورپ میں سرگرمیاں ٹرمپ اور یورپ میں قوم پرست سیاست دانوں کے عروج کے پس پردہ محرک قوت رہے ہیں۔ عالمی معیشت اور صنعتی وجود کی سلبی کے اثرات پر بے چینی کہیں زیادہ اہم عوامل ہیں۔ لیکن کئی مغربی یورپی گوشوں کو اندیشہ ہے کہ مغرب اور اس کے مابعد جنگ اتحادوں اور اداروں کو خطرہ ہے، اور یہ کہ ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، جو پہلے نیٹو کے تعلق سے شبہات ظاہر کئے اور بریکسٹ اور اسی طرح کی مخالف یورپی تحریکات سے اظہار یگانگت کرچکے ہیں۔ اگرچہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جیمز ماٹیس دونوں نے روایتی اتحادوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن ٹرمپ نے بدستور پوتین کے خلاف کچھ بھی لب کشائی نہیں کی ہے۔ جنرل شیرف کا کہنا ہے، ’’ٹرمپ نیٹو نقطہ نظر سے صورتحال بدلتے ہیں۔ سب سے بڑا اندیشہ نیٹو کو بے اثر کرنے اور امریکہ کو یورپی سکیورٹی سے منقطع کردینے سے متعلق ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ پوتین کو تمام اقسام کے مواقع مل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں روسی غلبہ ہوجائے گا۔ ہماری سلامتی کی ضمانت کیلئے فروغ دیئے گئے اداروں کا زوال شروع ہوگا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مجموعی طور پر یورپ کی ازسرنو ہیئت ترکیبی دیکھنے میں آئے گی۔‘‘
’’انجیلا مرکل کب تک ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف ڈٹی رہیں گی؟‘‘ یہ سوال اسٹیفن سیستانویچ کا ہے جو ریگن اور کلنٹن دونوں نظم و نسق کیلئے مشیر برائے روس رہے۔ اسٹیفن کا کہنا ہے کہ انجیلا پہلے ہی یورپ میں اپنی حد تک محدود ہوچکی ہیں۔ پوتین لگتا ہے یورپ میں نمایاں و برتر طاقت بن کر ابھرنے والے ہیں۔ ایک جرمن اخبار نے حال میں چونکا دینے والا اداریہ شائع کیا جس سے ٹرمپ کے انتخاب کے بعد سے یورپ میں عمومی مایوسی کی عکاسی ہوئی اور یہ بھی کہ امریکی وقار میں انحطاط آیا ہے۔ اداریہ میں کہا گیا کہ نئے صدر دنیا کیلئے خطرہ بن رہے ہیں اور جرمنی کو اس خطرے کے خلاف ڈٹ جانا چاہئے۔ایندری کوزیریف جو یلتسین حکومت میں وزیر خارجہ رہے، اب واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں۔ انھوں نے روس تب چھوڑ دیا جب ملک میں آمریت بڑھنے لگی ۔ انھیں اپنے اختیارکردہ وطن میں اب اسی طرح کا پریشان کن رجحان دکھائی دے رہا ہے۔ ’’مجھے کافی تشویش ہے۔ میری یادداشت میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب کریملن اور وائٹ ہاؤس دونوں طرف یکساں نوعیت کے لوگ دکھائی دے رہے ہیں۔ یکساں سوچ والے لوگ۔ شاید یہی وجہ ہے وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ یہ کوئی پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملتے جلتے ہیں۔ وہ جمہوریت اور اقدار پر کم توجہ دیتے ہیں، اور شخصی کامیابی کی طرف زیادہ متوجہ رہتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ کے انتظامیہ کا طرزکارکردگی اس قدر غیرمنظم، اس قدر ہنگامی نوعیت کا رہا ہے کہ بعض اوقات روزانہ کے اقدامات سے عوام کیلئے واضح نہیں رہتا کہ موجودہ طور پر کیا چیز لاگو ہے۔ ایک سابق روسی پالیسی اڈوائزر نے بتایا کہ پوتین کو ٹیلرسن جیسے اشخاص پسند ہیں، جو بس اپنا کام کرتے ہیں اور انسانی حقوق کی بات نہیں کرتے۔ ٹرمپ اڈمنسٹریشن  خاص طور پر تب خاموش رہا جب ایک روسی عدالت (عدالتیں اچھی طرح پوتین کے زیراثر ہیں) نے مخالف کرپشن جہدکار اور پوتین کیلئے آئندہ سال کے صدارتی الیکشن میں واحد سنجیدہ حریف الیکسی نوالنی کو فراڈ کے الزام کا خاطی پایا جسے پہلے ہی مسترد کردیا گیا تھا، اور اب یہ سزادہی انھیں صدارتی دوڑ سے باہر کرسکتی ہے۔
اوباما نظم و نسق نے اپنے آخری ایام میں روسی ہیکنگ کے خلاف جوابی کارروائی میں پینتیس روسی عہدیداروں کو ملک سے خارج کیا اور دو سفارتی دفاتر بند کئے تھے۔ کریملن نے ’’جوابی‘‘ سزا دینے کا عہد کیا، اور امریکی انٹلیجنس نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے نئے عہدیداروں کو ماسکو بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ وہ ممکنہ خارج عہدیداروں کی جگہ لے سکیں۔ ایک امریکی انٹلیجنس عہدہ دار کے مطابق نئے عہدیداروں فلائٹ پکڑ لی تھی لیکن 30 ڈسمبر کو پوتین نے کہہ دیا کہ وہ جوابی کارروائی نہیں کریں گے۔ موقف میں اس اچانک بدلاؤ کو سمجھنے کیلئے امریکی انٹلیجنس نے روس کے سفیر برائے امریکہ سرجی کسلیاک کے پیامات کی تنقیح کی، اور یہ عقدہ کھلا کہ ٹرمپ کے پہلے قومی سلامتی مشیر مائیکل فلین کی ان سے بات چیت ہوئی تھی، جس میں معاشی تحدیدات کے مستقبل کا موضوع چھیڑا گیا۔ ٹرمپ کا داماد جیئرڈ کوشنر نے عبوری مدت کے دوران کسلیاک سے ٹرمپ ٹاور میں ملاقات کی اور وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کا مقصد مستقبل میں زیادہ کھلے طور پر ربط و ضبط قائم کرنا رہا۔ فلین کو یہ خبر عام ہوتے ہی مجبوراً مستعفی ہونا پڑا کہ انھوں نے ان ملاقاتوں کے تعلق سے نائب صدر مائیک پینس سے جھوٹ بولا تھا۔ٹرمپ نے روس سے خود اپنے روابط کے تعلق سے مضحکہ خیز بے ربط بیانات دیئے ہیں۔ جب وہ 2013ء میں مس یونیورس کے سلسلہ میں ماسکو گئے تھے، تب ایم ایس این بی سی چیانل کی طرف سے اُن سے پوتین کے تعلق سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا تھا، ’’میں کچھ رشتہ رکھتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ انھیں اس میں کافی دلچسپی ہے جو کچھ ہم آج یہاں کررہے ہیں‘‘۔ بعدازاں نیشنل پریس کلب لنچ کے موقع پر انھوں نے کہا، ’’میں نے صدر پوتین سے بالواسطہ اور راست طور پر بات کی ہے، اور وہ بہت بھلے معلوم ہوئے ہیں‘‘۔ صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا: ’’میں نے پوتین سے کبھی ملاقات نہیں کی، مجھے نہیں معلوم پوتین کون ہے۔‘‘ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ انھیں روس سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر فبروری میں ایک نیوز کانفرنس میں ٹرمپ سے دوبارہ پوچھا گیا، آیا اُن کی مہم میں سے کسی کا روس کے ساتھ ربط رہا ہے، انھوں نے کہا، ’’کوئی بھی نہیں ،جسے میں جانتا ہوں‘‘۔ انھوں نے روسی روابط کی اطلاعات کو ’’ایک چال‘‘ قرار دیا اور کہا، ’’میرا روس سے کوئی واسطہ نہیں۔ برسوں سے روس کو فون کال تک نہیں کیا۔ روس کے لوگوں سے بات بھی نہیں کرتا۔‘‘ اگلے ہی روز سینیٹ انٹلیجنس کمیٹی نے باقاعدہ وائٹ ہاؤس کو صلاح دی کہ روسی نمائندوں کے ساتھ روابط پر ممکنہ روشنی ڈالنے والے تمام مواد کی حفاظت کی جائے؛ ان روابط کو مبہم کرنے کی کوئی بھی کوشش جرم متصور ہوسکتی ہے۔
وسط فبروری تک نفاذِ قانون اور انٹلیجنس کی ایجنسیوں نے روسیوں اور ٹرمپ کے معاونین کے درمیان روابط کے کئی ثبوت اکٹھا کرلئے۔ روسی انٹلیجنس شخصیتوں میں پال مینافورٹ کی گفتگو بار بار ریکارڈ میں آئی۔ وہ 2016ء میں کئی ماہ ٹرمپ کی مہم کے چیئرمین تھے اور سابق میں یوکرین میں سیاسی مشیر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ ایک عہدہ دار نے کہا کہ انھیں آیا معلوم تھا یا نہیں، لیکن مینافورٹ ہر وقت روسی انٹلیجنس کے آس پاس رہا۔ تحقیقات کار ممکن ہے ٹرمپ اور اُن کے کئی معاونین …مینافورٹ، فلین، خارجہ پالیسی مشیر کارٹر پیج، وکیل مائیکل کوہن و دیگر … سے معلومات حاصل کریں گے اور دیکھیں گے کہ روسی حکومت یا تجارتی نمائندوں کے ساتھ آیا کوئی غیرقانونی یا غیراخلاقی تعلقات رہے ہیں۔
صدر اوباما کے سینئر مشیر برائے روس سیلسٹے ویلنڈر کے خیال میں اصل سوال یہ ہے کہ آیا پوتین امریکی جمہوریت کی ناکامیوں کا پردہ فاش کریں گے یا وہ غیرارادی طور پر امریکی جمہوریت کی طاقت کو اُجاگر کردیں گے؟ موجودہ معاملے سے جُڑے انٹلیجنس عہدیداروں کا تاثر ہے کہ روسی طرزعمل بشمول ہیکنگ، پروپگنڈہ اور ٹرمپ معاونین کے ساتھ روابط کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں بلکہ وقتی حکمت عملی ہوگی۔
ابتداء میں روسی قیادت کے ارکان نے ہلاری کلنٹن کے منظر سے غائب ہونے کی خوشی منائی، اور پھر ’’امریکہ مقدم‘‘ عوامیت کی طرف جھکاؤ نے مسرت کا موقع فراہم کیا کیونکہ اس سے عالمی منظر میں ’تنہا‘ روس زیادہ آسانی سے سرگرم ہوسکے گا۔ مائیکل فلین سے محرومی اور کانگریس میں ممکنہ سماعتوں نے سارے معاملے سے دلچسپی بڑھا دی ہے۔ ماسکو میں خارجہ پالیسی کے ایک ممتاز جریدہ کے ایڈیٹر اِنچیف فیودر لوکیانوف نے کہا کہ ٹرمپ جنھیں کانگریس کی تحقیقات، پریس اور انٹلیجنس ایجنسیوں سے دباؤ کا سامنا ہے، وہ اُس سے کہیں زیادہ ’معمولی‘ ریپبلکن پریسیڈنٹ ثابت ہوسکتے ہیں جتنا شروع میں سمجھا گیا تھا۔ بہ الفاظ دیگر ٹرمپ کو آخرکار یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے کہ انھیں فکر وعمل کی اتنی آزادی حاصل نہیں کہ ماسکو کے خلاف تحدیدات ختم کرتے ہوئے روس کے ارضی و سیاسی عزائم کیلئے راہ ہموار کی جاسکے۔ ماسکو میں بدلتے موڈ کی علامت کہہ سکتے ہیں کہ کریملن نے روسی ٹیلی ویژن چیانلز کیلئے احکام جاری کئے ہیں کہ نئے امریکی صدر کے اپنے کوریج میں زیادہ محتاط رہیں۔ ماسکو کے اخبار ’ایکو‘ کے ایڈیٹر اِنچیف الیکسی ونیدکتوف کا تاثر ہے کہ ٹرمپ اڈمنسٹریشن کی یہی صورتحال رہی تو پوتین زیرقیادت روس عین ممکن ہے ’نظریۂ شورش‘ کو بروئے کار لائے گا۔ امریکہ میں بے اطمینانی اور ہیجان پیدا کرنا پڑے گا۔ جو ملک شورش سے مسلسل پریشان رہے وہ خودبخود کمزور ہوجاتا ہے … اور روس بھرپور آزادی سے سرگرم ہوسکے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT