Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / پوسٹ آفس حکام اور بینک مینیجرس کے خلاف خفیہ کارروائی

پوسٹ آفس حکام اور بینک مینیجرس کے خلاف خفیہ کارروائی

ایک پولیس عہدیدار پر رقم چھین لینے کا الزام ۔ چار گھنٹوں میں دوسری شکایت درج
حیدرآباد ۔ 3 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : نوٹ بندی کے اعلان کے بعد کرنسی نوٹوں کی تبدیلی میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کے الزامات کا سامنا کررہے پوسٹ آفس حکام اور بینک منیجر کے خلاف خفیہ طور پر کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ تاہم اس معاملہ میں پولیس عہدیداروں کے رویہ پر بھی شک کی سوئی گھومنے لگی ہے اور پولیس کے کردار پر بھی شبہات اور الزامات پائے جاتے ہیں ۔ آج ایک ایسا ہی واقعہ منظر عام پر آیا جس میں ایک پولیس عہدیدار نے ماتحت ملازمین کی ہمراہ سرویس ریوالور سے دھماکر فلمی انداز میں نئی کرنسی کو ہڑپ لیا ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس پولیس عہدیدار کے خلاف اندرون 4 گھنٹے دوسری شکایت بھی درج کرلی گئی جس کے نام کو پولیس کے دیگر ملازمین راز میں رکھنا چاہتے ہیں اور اس پولیس عہدیدار کے نام کو عوام میں منظر عام لانے سے روکنے کی مکمل کوشش کی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کالے دھن سے 18 ہزار روپئے تولہ سونا فروخت کرنے کی بات اور ایک پیشکش پر گذشتہ چند روز قبل چند تاجر فلم نگر کے ایک گیسٹ ہاوز میں جمع ہوئے تھے ۔ پولیس نے اس اطلاع کے حاصل ہونے کے بعد مقام پر دھاوا کرتے ہوئے فلمی انداز میں ان تاجرین سے ایک لاکھ روپئے چھین لیے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جس پولیس عہدیدار کے خلاف متعدد شکایتیں وصول ہورہی ہے ۔ وہ سی ایم کیمپ آفس کے قریب پنجہ گٹہ کے علاقہ میں خدمات انجام دیتا ہے ۔ تاہم پولیس نے اس بات کی توثیق نہیں کی ۔ جب کہ اس عہدیدار کے خلاف شکایت میں ایک کانگریس قائد پر بھی الزامات ہیں اور دونوں کی ملی بھگت سے لوٹ مار کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں ۔ دوسری شکایت میں اسی مقام پر کرنسی تبدیل کرنے کی کوشش میں ساڑھے بارہ لاکھ روپئے نئی کرنسی کو چھین لیا گیا ۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں نئی کرنسی کہاں سے دستیاب ہوئی ۔ انکم ٹیکس اور سی بی آئی کو چاہئے کہ وہ اپنی تحقیقات کے زاویہ کو ان الزامات کی طرف مرکوز کریں تاکہ پولیس کی ساکھ کو متاثر کررہے ایسے عہدیدار اور الزامات کا خلاصہ ہوسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT