Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / پوسٹ میٹرک اسکالر شپس سے اقلیتی طلبہ کو محرومی کا خدشہ

پوسٹ میٹرک اسکالر شپس سے اقلیتی طلبہ کو محرومی کا خدشہ

آن لائن ادخال درخواست کے لیے بعض ناقابل عمل شرائط سے سخت دشواریاں

آن لائن ادخال درخواست کے لیے بعض ناقابل عمل شرائط سے سخت دشواریاں
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی طلبہ کیلئے سال 2014-15 کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کا اعلان کیا ہے تاہم امیدواروں کو درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں بعض شرائط کے سبب سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے تعلیمی سال کے آغاز کے تقریباً 6ماہ بعد اسکیم کا اعلان کیا اور دو دن قبل آن لائن درخواستوں کی وصولی کا آغاز کیا گیا۔ نئے درخواست گذاروں کے علاوہ رینول کی درخواستوں کے سلسلہ میں بھی امیدواروں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ درخواستوں کے ادخال کیلئے آن لائن بعض نئی شرائط شامل کردی گئیں جو اقلیتی طلبہ کیلئے ناقابل عمل ہیں۔ امیدواروں کیلئے بونافائیڈ اور کاسٹ سرٹیفکیٹ کا لزوم عائد کردیا گیا جس کے سبب ہزاروں طلبہ اسکالر شپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے مسئلہ کا جائزہ لینے کا تیقن دیا تاہم طلبہ اور اولیائے طلبہ میں بے چینی بدستور برقرار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواستوں کے ادخال کیلئے می سیوا سے حاصل کردہ کاسٹ سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیا گیا جبکہ ایسے اقلیتی طلبہ جن کا تعلق او سی طبقہ سے ہے ان کیلئے سرٹیفکیٹ کا کوئی نظم نہیں۔ لہذا او سی گروپ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کہاں سے سرٹیفکیٹ حاصل کریں گے۔ سابق میں درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں تھی جس میں او سی طلبہ جن میں زیادہ تر مسلم اقلیت کے طلبہ ہوتے ہیں کو سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ آن لائن درخواستوں کے ادخال کے وقت سابق میں او سی کا زمرہ رکھا گیا تھا جس پر کلک کرتے ہوئے امیدوار آگے بڑھ سکتے تھے لیکن اس مرتبہ سرٹیفکیٹ کی پیشکشی کو لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ کسی بھی سرکاری ادارہ سے او سی کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلہ میں نہ صرف تازہ درخواست گذار بلکہ رینول کی درخواستوں کو بھی قبول نہیں کیا جارہا ہے۔ اسی طرح ڈگری کرنے والے طلبہ کیلئے چھٹویں تا بارہویں جماعت بونافائیڈ سرٹیفکیٹ کی پیشکشی کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ جونیر کالجس کے طلبہ کو چوتھی تا دسویں جماعت کے بونافائیڈ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کئی طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے حفظ کی تکمیل کے بعد راست طور پر ایس ایس سی کا امتحان لکھا یا پھر کئی طلبہ ساتویں کے بعد براہ راست ایس ایس سی کا امتحان لکھتے ہیں ایسے طلبہ کو بونافائیڈ سرٹیفکیٹ پیش کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے کیونکہ کوئی بھی اسکول تعلیم کے بغیر بونافائیڈ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتا یا پھر اسے سرٹیفکیٹ کیلئے بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ طلبہ نے شکایت کی کہ بونافائیڈ سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے اسکول انتظامیہ رقم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سابق میں بونافائیڈ سرٹیفکیٹ کی پیشکشی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ اسے لازمی قرار دینے کے سبب طلبہ اسکالر شپ کے حصول کے بارے میں اندیشوں کا شکار ہیں۔ ان شرائط کی تکمیل کے بغیر درخواستیں قبول نہیں کی جارہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ رینول کی درخواستوں کیلئے بھی بونافائیڈ سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان دو شرائط کے سبب ہزاروں اقلیتی طلبہ اسکالر شپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ حکام کو فوری اس جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے شرائط میں نرمی کرنی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT