Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / پولاورم بل کی منظوری ، دستوری خلاف ورزی کی تردید، آرڈیننس کے بجائے بل کی پیشکش اور ترمیم : وینکیا نائیڈو

پولاورم بل کی منظوری ، دستوری خلاف ورزی کی تردید، آرڈیننس کے بجائے بل کی پیشکش اور ترمیم : وینکیا نائیڈو

نئی دہلی ۔ 12 ۔ جولائی : ( پی ٹی آئی ) : مرکزی وزیر شہری ترقیات و پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو لوک سبھا میں گذشتہ روز آندھرا پردیش تنظیم جدید ( ترمیمی ) بل کی منظوری سے قومی دستوری خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے چند منڈلوں اور دیہاتوں کی آندھرا پردیش کو منتقلی کے لیے 29 مئی 2014 کو جاری کردہ آرڈیننس کی جگہ لینے کے لیے یہ بل پیش کی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ ہمہ مقصدی پولاورم آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کے لیے ان منڈلوں کی منتقلی عمل میں آئی ہے ۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کا 2 جون 2014 کو وجود عمل میں آیا تھا اور یہ آرڈیننس اس سے پہلے جاری ہوا تھا جب غیر منقسم آندھرا پردیش برقرار تھا ۔ انہوںنے یہ ردعمل ان الزامات کے جواب کے طور پر کیا کہ اس ضمن میں تلنگانہ اسمبلی سے مشاورت نہیں کی گئی ہے ۔ لوک سبھا میں بحث کے بغیر بل میں ترمیم کے مسئلہ پر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ایوان کی بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں تمام جماعتوں سے مشاورت کی گئی تھی اور بحث کے لیے دو گھنٹے مختص کرنے سے اتفاق کیا گیا تھا لیکن بل کی پیشکش پر ایوان کی صورتحال ٹھیک نہیں تھی چند ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ چکے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی یو پی اے حکومت اور وزیر اعظم نے پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کیلئے بل میں تعمیر کے ذریعہ چند دیہاتوں کی آندھرا پردیش کو منتقلی کے بشمول تمام سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ وینکیا نائیڈو نے اس پراجکٹ پر عائد ہونے والے مصارف میں ہولناک اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 1980 میں 800 کروڑ روپئے کے مصارف کا تخمینہ تھا جو اب 16000 کروڑ روپئے ہوگیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT