Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / پولاورم پر کے سی آر کی رضامندی کے بعد ہی ریاست تلنگانہ کی تشکیل

پولاورم پر کے سی آر کی رضامندی کے بعد ہی ریاست تلنگانہ کی تشکیل

پراجکٹ سے کئی ریاستوں کو فائدہ، بی جے پی قائد کے ایس راؤ کا بیان

پراجکٹ سے کئی ریاستوں کو فائدہ، بی جے پی قائد کے ایس راؤ کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 جولائی (سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر و بی جے پی قائد مسٹر کے ایس راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے پولاورم پراجکٹ کو تسلیم کرنے کے بعد ہی علحدہ تلنگانہ ریاست قائم ہوئی ہے۔ سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے آج اسکی مخالفت کرنا غیرمناسب ہے۔ دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کے ایس راؤ نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ صرف آندھراپردیش کیلئے نہیں بلکہ کئی پڑوسی ریاستوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔ اس لئے اس پراجکٹ کو مرکزی حکومت نے قومی پراجکٹ کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت اور دوسری جماعتوں کو اس پر غیرضروری واویلا مچاتے ہوئے پراجکٹ کی تعمیرات میں رکاوٹ ناپیدا کرنے کا مشورہ دیا۔ پولاورم پراجکٹ کی تعمیر سے جو مواضعات زیرآب آرہے ہیں وہ ایک زمانے میں آندھراپردیش کا حصہ رہے ہیں اس کو دوبارہ آندھراپردیش میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم بھدراچلم کی مندر تلنگانہ کے شخص نے تعمیر کی ہے لہٰذا تلنگانہ والے اس کو تلنگانہ میں رکھنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت نے مندر تلنگانہ میں رکھنے اور زیرآب آنے والے علاقے آندھراپردیش میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت نے کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ماضی کی حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر عمل آوری کی ہے۔ اس وقت انتخابی قواعد کی وجہ سے یو پی اے حکومت آرڈیننس جاری کرنے سے محروم رہی۔ این ڈی اے حکومت نے پہلے آرڈیننس جاری کیا پھر اس کے بعد لوک سبھا میں بل منظور کی ہے۔ صدر ٹی آر ایس مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے تحریک چلاتے ہوئے علحدہ تلنگانہ حاصل کیا ہے۔ ریاست کی تقسیم اور دارالحکومت حیدرآباد سے محرومی کے بعد آندھراپردیش کئی مسائل کا شکار ہے۔ پولاورم پراجکٹ اس کی ترقی میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ لہٰذا پراجکٹ کی تعمیرات میں کوئی رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔ آندھراپردیش اور مرکزی حکومتیں متاثر ہونے والے قبائیلیوں کو راحت فراہم کرنے کے معاملے میں عہد کی پابند رہیں گی۔

TOPPOPULARRECENT