Thursday , September 20 2018
Home / اداریہ / پولنگ اور مودی کا روڈ شو

پولنگ اور مودی کا روڈ شو

وزیر اعظم مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کی آبائی ریاست گجرات میں دوسرے اور قطعی مرحلہ کی رائے دہی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ کروڑوں گجراتیوں کی طرح مودی بھی ووٹ دینے کیلئے پہونچے ۔ قطار میں اپنی باری کا انتظار کیا اور پھر ووٹ کا استعمال کیا ۔ یہاں تک تو کوئی بات قابل اعتراض نہیں تھی تاہم جب وہ ووٹ دے کر باہر نکلے تو شائد وہ یہ بھول گئے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور قانون اور شرائط کی پابندی کی سب سے زیادہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے اور انہیں اپنے عمل سے اس کی مثال پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ شائد یہ بھی بھول گئے کہ وہ صرف بی جے پی کی انتخابی مہم کے روح رواں نہیں بلکہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ وہ شائد یہ بھی فراموش کرگئے کہ گجرات میں انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے اور پولنگ کا مرحلہ چل رہا ہے ۔ مودی نے ووٹ دینے کے بعد ایک کھلی جیپ میں سوار ہوکر عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی اور کھلی جیپ میں عوام کیلئے ہاتھ ہلاتے ہوئے سفر کیا ۔ یہ ایسا کام تھا جو ایک وزیر اعظم کیلئے نازیبا ہی کہا جاسکتا ہے ۔ ووٹ حاصل کرنے کیلئے نریندر مودی نے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم پوری شدت کے ساتھ چلائی ۔ اس کا انہیں پورا پورا حق حاصل تھا ۔ اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوا حالانکہ مودی صرف گجرات کے نہیں یا صرف بی جے پی کے نہیں بلکہ سارے ملک کے اور ملک کے سارے عوام کے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے ملک کی دوسری تمام ریاستوں کو عملا انتخابی مہم کے دوران فراموش کردیا اور تقریبا روزآنہ کی اساس پر دہلی سے گجرات کا سفر کیا اور انتخابی جلسوں اور ریلیوں سے خطاب کیا ۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے اپنے عہدہ کے وقار کا خیال نہیں کیا اور ایسے تبصرے اور ریمارکس کئے جو ہندوستان جیسے عظیم ملک کے جلیل القدر عہدہ پر فائز شخص کیلئے مناسب نہیں ہوسکتے ۔ یہی کام انہوں نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران بھی کیا تھا ۔ انتخابی مہم کے اختتام کے بعد ہر سیاسی جماعت کیلئے پابندیاں ہوتی ہیں۔ نہ کوئی ریلی ہوسکتی ہے نہ کوئی جلسہ یا جلوس ہوسکتا ہے ۔ اس کی پابندی ہر سیاسی جماعت اور امیدوار کو کرنی ہوتی ہے ۔
وزیر اعظم یقینی طور پر ایک قافلے کے ساتھ چلتے ہیں لیکن پروٹوکول کی اس سہولت کا بیجا استعمال وہ بھی ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے کیا جانا انتہائی افسوسناک ہے ۔ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ مودی نے جس طرح سے 2014 کے عام انتخابات کے دوران پولنگ کے دن کنول کے پھو ل کی علامت کا استعمال کرتے ہوئے ووٹ دیا تھا اسی طرح اب وہ رائے دہی کے بعد کھلی جیپ میں سفر کرتے ہوئے رائے دہندوں کو رجھانے اور راغب کرنے کی بالواسطہ نہیں بلکہ سیدھی کوشش کر رہے ہیں۔ جب وہ ووٹ دینے آئے تھے تب اپنی کاروں کے قافلہ میں پوری سکیوریٹی کے ساتھ تھے لیکن جب واپس ہونے لگے تو کار کی بجائے کھلی جیپ کو ترجیح دینا اور پھر قطار میں لگے رائے دہندوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلانا یہ سب کچھ اصول اور قوانین کے خلاف ہے اور یہ کام پارٹی کے کسی مقامی لیڈر یا کسی امیدوار نے نہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم نے کیا ہے ۔ اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ خود وزیر اعظم اور بی جے پی کے دوسرے قائدین نے بھی صرف اور صرف ووٹوں کے حصول کو اپنا مقصد و منشا بنایا ہوا ہے ۔ اس کیلئے انہیں کسی قانون کی دھجیاں اڑانے اور اصولوں کو فراموش کرنے سے بھی عار نہیں ہے ۔ وہ ووٹ اوراقتدار حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے بھی رائے دہی کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر رائے دہندوں سے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کی جبکہ پولنگ کے دوران ایسی کوئی بھی اپیل انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے امیت شاہ بھی بخوبی واقف ہیں۔
کانگریس کی جانب سے مودی اور امیت شاہ کے خلاف کارروائی کیلئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے اور کمیشن کی جانب سے بدستور خاموشی ہے ۔ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ اب چاہے کمیشن کارروائی کرے یا اس سے صرف نظر کرلے ‘ جو کام نریند رمودی کو کرنا تھا وہ کرچکے ہیں اور اس کا جو اثر ہوسکتا تھا وہ شائد ہوگا بھی لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا ملک کے وزیر اعظم کو بھی انتخابی قواعد اور اخلاق و اقدار کی پاسداری کا خیال نہیں رہ گیا ہے ؟ ۔ کیا ووٹ کا حصول اور اقتدار کیلئے اعلی ترین دستوری عہدہ پر فائز رہتے ہوئے بھی اوچھی ہتھکنڈے اختیار کئے جاسکتے ہیں ؟ ۔ یہ ایسے سوال ہیں جن خود نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اقتدار کی خاطر اصولوں اور اقدار کی دھجیاں اڑانا ملک کی جمہوریت سے مذاق ہے اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ جمہوری عمل کے ذریعہ اعلی ترین عہدوں پر پہونچنے والے ہی یہ مذاق کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT