Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پولو گراونڈ پر تلنگانہ سکریٹریٹ کے تعمیر کی مخالفت

پولو گراونڈ پر تلنگانہ سکریٹریٹ کے تعمیر کی مخالفت

حکومت کو فیصلہ سے دستبرداری پر زور ، کانگریس قائدین کا دورہ گراونڈ
حیدرآباد ۔ 6 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے قائدین نے سکندرآباد کے بیسن پولو گراونڈ پہونچ کر نئے سکریٹریٹ کی مجوزہ تعمیر کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔ اپنے فیصلے سے فوری دستبردار ہوجانے کا تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ۔ بصورت دیگر احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی ، قائدین اپوزیشن کے جانا ریڈی ( اسمبلی ) ، محمد علی شبیر ( کونسل ) ، سابق رکن رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ ، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین ، جنرل سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید عظمت اللہ حسینی ، بلوکشن کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں تمام چیف منسٹرس نے موجودہ سکریٹریٹ سے ہی اپنی خدمات انجام دی تھی ۔ نئے سکریٹریٹ کے نام پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر عوامی فنڈز کا بیجا استعمال کررہے ہیں ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ ہندوستان ایک جمہوری مملکت ہے تاہم چیف منسٹر کے سی آر شاہی فیصلے کرتے ہوئے عوامی فنڈز کا بیجا استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ کے خلاف کانگریس پارٹی اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہوں تک متحدہ آندھرا پردیش کے عوام کے لیے سود مند رہنے والا سکریٹریٹ تلنگانہ کے لیے کیسے بے فیض ہوسکتا ہے ۔ حیدرآباد کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سڑکوں کی توسیع پر کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اس معاملے میں کانگریس پارٹی مکمل تعاون کرے گی لیکن نئے سکریٹریٹ کے تعمیر کی کانگریس خلاف ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ مرکز کے پاس تلنگانہ کے کئی مسائل زیر التواء ہے ۔ حیرت کی بات ہے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے چیف منسٹر نئے سکریٹریٹ کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ تقسیم آندھرا پردیش کے موقع پر ریاست تلنگانہ کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے اس کو حاصل کرنے میں چیف منسٹر پوری طرح ناکام ہوگئے ۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہا کہ بیسن پولو گراونڈ کی اراضی حاصل کرنے پر کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ تاہم نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے پر اعتراض ہے ۔ ریاست میں عوام کی کئی ضرورتیں ہیں ۔ اس کے لیے اراضی کی عدم دستیابی پر کئی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ چیف منسٹر پر نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا بھوت سوار ہے ۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر جمہوری نظام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تغلق حکمرانی کررہے ہیں ۔ ریاست پر 73 ہزار کروڑ کا قرض ہے ۔ مزید قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کے ہر شہری کو یہاں تک نومولود کو بھی مقروض بنایا جارہا ہے ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیرات اور دلتوں کو تین ایکڑ اراضی فراہم کرنے کے معاملے میں چیف منسٹر ناکام ہوگئے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عوامی فنڈز کا بیجا استعمال کرنے کا کے سی آر کو کوئی حق نہیں ہے ۔ اس کے خلاف کانگریس پارٹی اپنا احتجاج جاری رکھے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT