Saturday , November 18 2017
Home / جرائم و حادثات / پولیس حراست میں خاتون کی موت پر کمشنر کی برہمی

پولیس حراست میں خاتون کی موت پر کمشنر کی برہمی

حیدرآباد کو محفوظ شہر بنانے کی ہدایت‘ اعلیٰ پولیس عہدیداروں سے وائرلیس سیٹ کانفرنس
ایس ایم بلال
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست ۔ شہر حیدرآباد کو ’’ سیف گلوبل سٹی‘‘ میں تبدیل کرنے  اور پولیس کو  عوام دوست بنانے  کمشنر پولیس حیدرآباد کا خواب اب ادھورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایک ماہ کے دوران پولیس حراست میں دو شہریان کی موت نے کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر مہیندر ریڈی کے ارادوں پر پانی پھیردیا ہے۔ آصف نگر پولیس کی حراست میں فوت ہونے والی خاتون کی موت کا سخت نوٹ لیتے ہوئے کمشنر پولیس نے آج دونوں شہروں کے تمام پولیس عہدیداروں بشمول ایڈیشنل کمشنران تا انسپکٹران کا وائرلیس سیٹ کانفرنس کیا جس میں دونوں شہروں کے تمام پولیس اسٹیشنس سے وابستہ پولیس ملازمین کی کارکردگی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس عملہ کی لاپرواہی سے حیدرآباد سٹی پولیس کی شبیہہ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے سیٹ کانفرنس میں تمام پولیس اسٹیشنس کیلئے نئے تحدیدات عائد کئے ہیں جن میں پولیس اسٹیشن کے لاک اپس کے انچارج کو متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کو بنایا ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں پولیس زیادتیوں کے تین واقعات رونما ہوئے جس میں جولائی میں ایک این آر آئی ایم واسو کو مشیر آباد پولیس عملہ نے معمولی سی بات پر شدید زد و کوب کیا تھا اور  3 اگست کو ماریڈ پلی پولیس حراست میں بانپا کی موت واقع ہوئی تھی اور کل آصف نگر پولیس حراست میں خاتون نکاپدما کی موت واقع ہونے کے واقعہ نے سٹی پولیس شبیہہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیٹ کانفرنس میں کمشنر پولیس نے اپنے ماتحتوں کو بتایا کہ پولیس کو عوام دوست رویہ پر زور دیئے جانے کے مثبت نتائج برآمد ہونے سے قبل ہی پولیس محکمہ کو داغدار بنانے کی حرکتوں میں ملوث ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ دیڑھ گھنٹے کی سیٹ کانفرنس میں مسٹر مہیندر ریڈی نے یہ احکامات جاری کئے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کے لاک اپس کی نگرانی اور ڈیویژن کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کریں گے اور ان لاک اپس میں محروس افراد کی اطلاع متعلقہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس بروقت فراہم کی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ کمشنر پولیس یہ احکامات جاری کئے کہ شام 6 بجے کے بعد پولیس اسٹیشن میں خواتین اور بچوں کو محروس نہ رکھا جائے اور مشتبہ خواتین کی تفتیش  خاتون پولیس کانسٹبل کی موجودگی میں کی جائے۔ کسی بھی مشتبہ شخص کی تحقیقات متعلقہ انسپکٹر کی نگرانی میں ہونی چاہئے اور سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری لازم ہے ۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے اس کانفرنس میں اپنے ماتحتوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ غیر ضمانتی وارنٹ کی تعمیل کے دوران بھی دانستہ طور پر لاپرواہی برتی جارہی ہے اور وارنٹ کے تحت گرفتار کئے جانے والے شخص کو ایک ہی دن میں عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس کانفرنس کے ذریعہ دونوں شہروں کے تمام پولیس ملازمین کو یہ واضح طورپر اشارہ دیا ہے کہ شہریوں پر پولیس حراست میں  ظلم کے واقعات کو سختی سے نمٹا جائے گا اور عوام دوست پالیسی کے خلاف کام کرنے والے پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT