Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / ’’پولیس ظالم نہیں ہوسکتی ، مہذب بننا پڑے گا ‘‘

’’پولیس ظالم نہیں ہوسکتی ، مہذب بننا پڑے گا ‘‘

فسادات ، احتجاجوں سے نمٹنے میں طاقت کم ، سوجھ بوجھ زیادہ استعمال کریں : راجناتھ
میرٹھ۔ 7 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ اکیسویں صدی کی پولیس فورس ظالمانہ فورس نہیں ہوسکتی بلکہ اسے مہذب یونٹ بننا پڑے گا اور پولیس والوں سے اپیل کی کہ چیلنج بھرے حالات جیسے فسادات اور احتجاجوں سے نمٹنے میں صبر کا مظاہرہ کریں۔ وزیر موصوف نے مرکز اور ریاستیں دونوں کے تحت کام کرنے والی پولیس فورسیس سے اپیل کی کہ کسی احتجاج یا فسادات جیسی صورتحال کے دوران مشتعل اور پرتشدد ہجوم پر قابو پانے اور ان کا ذہن ہٹانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی اور نفسیاتی طریقے اختیار کریں۔ راج ناتھ نے یہ ریمارکس ریاپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی تشکیل کے 25 سال کی تکمیل کے موقع پر یہاں ان کے ہیڈکوارٹرس پر منعقدہ تقریب کے دوران کئے۔ راج ناتھ نے سکیورٹی والوں سے ایسے واقعات پر موثر کنٹرول کرنے کی اپیل کی جن میں ملک کو ذات پات، مذہب یا علاقائیت کے خطوط پر تقسیم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صبر اور تحمل سے کام لینا پولیس فورسیس کے لئے ضروری ہے۔ ’’میں سمجھتا ہوں بعض اوقات پولیس فورسیس کو ہلکی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن ایسے حالات میں بھی سوجھ بوجھ درکار ہوتا ہے‘‘۔ راج ناتھ نے کہا کہ وہ پہلے ہی بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سے کہہ چکے ہیں کہ نگرانی کے کام انجام دینے اور ہجوم پر قابو پانے میں کم مہلک طریقے اختیار کئے جائیں۔ ملک کی داخلی سلامتی کے میکانزم کے سربراہ نے فورسیس سے کہا کہ اقل ترین طاقت استعمال کرتے ہوئے اعظم ترین نتائج حاصل کرنا سیکھیں۔ انہوں نے آر اے ایف کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس فورس کی پانچ نئی بٹالین آئندہ سال یکم جنوری سے مکمل کارکرد ہوجائے گی۔ وزیر داخلہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ سنٹرل آرمڈ پولیس فورسیس کے ملازمین کو یونیفارم سلوانے کیلئے 10,000 روپئے کا سالانہ الاؤنس عطا کیا جائے گا اور ریڈیمیڈ یونیفارمس کی فراہمی ترک کردی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT