Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / پولیس نے خادم کو اقبالی بیان کیلئے مجبور کیا: تھرور

پولیس نے خادم کو اقبالی بیان کیلئے مجبور کیا: تھرور

نئی دہلی ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اپنی بیوی کی موت میں ایک اور موڑ کے درمیان کانگریس ایم پی ششی تھرور نے دہلی پولیس کو ان کے گھریلو خادم کو ’’مار پیٹ‘‘ اور ’’دھمکا کر‘‘ اقبالیہ بیان دینے پر مجبور کرنے کا موردالزام ٹھہرایا، کہ وہ دونوں نے سننداپشکر کو ہلاک کیا ہے جبکہ پولیس نے کہا کہ اس کی رائے میں یہ بادی النظر میں قتل کا کیس ہے۔

نئی دہلی ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اپنی بیوی کی موت میں ایک اور موڑ کے درمیان کانگریس ایم پی ششی تھرور نے دہلی پولیس کو ان کے گھریلو خادم کو ’’مار پیٹ‘‘ اور ’’دھمکا کر‘‘ اقبالیہ بیان دینے پر مجبور کرنے کا موردالزام ٹھہرایا، کہ وہ دونوں نے سننداپشکر کو ہلاک کیا ہے جبکہ پولیس نے کہا کہ اس کی رائے میں یہ بادی النظر میں قتل کا کیس ہے۔ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کردی گئی ہے جو سنندا کی موت کی تحقیقات کرے گی، دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے یہ بات کہی جنہیں تھرور نے گذشتہ سال 12 نومبر کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے گھریلو خادم نارائن سنگھ پر پولیس دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ کمشنر نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی نگرانی ڈی سی پی (ساوتھ) پریم ناتھ کریں گے۔ یہ ایڈیشنل ڈی جی پی (ساوتھ) پی ایس کشواہا اور اے سی پی رتبہ کے عہدیدار، ایک انسپکٹر اور سروجنی نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او پر مشتمل رہے گی۔

اپنے مکتوب میں سابق مرکزی وزیر نے ہدایت کی تھی کہ ایک عہدیدار کا طرزعمل ’’ناقابل قبول اور غیرقانونی‘‘ ہے جس نے ان کے گھریلو خادم نارائن سنگھ کو’’بار بار زدوکوب‘‘ کرتے ہوئے اسے اس اقبالی بیان پر مجبور کیا کہ وہ دونوں نے اسے قتل کیا۔ تھرور نے کہا کہ وہ اور ان کا اسٹاف اب تک اس کیس کی تحقیقات کرنے والے پولیس حکام کے ساتھ ’’بھرپور تعاون‘‘ کرتے آئے ہیں۔ اس دوران مملکتی وزیر برائے امورداخلہ ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری نے آج کہا کہ دہلی پولیس سنندا کی موت کے کیس کی آزادانہ تحقیقات کررہی ہے اور یہ کہ مرکز کی جانب سے تحقیقات کاروں کو کوئی ’’ہدایت‘‘ نہیں دی گئی ہے۔ اپوزیشن الزامات پر انہوں نے کہا کہ پولیس کمشنر نے سارا معاملہ واضح طور پر بیان کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT