Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پولیس نے میری ہنستی کھیلتی زندگی کو ویران کردیا

پولیس نے میری ہنستی کھیلتی زندگی کو ویران کردیا

معصوم بچوں کے ساتھ انصاف کی فریاد

معصوم بچوں کے ساتھ انصاف کی فریاد
حیدرآباد۔8اپریل(سیاست نیوز) نام نہاد انکاونٹر کے نام پر میرے شوہر کو پولیس نے مبینہ طور پر قتل کردیا۔ آج بے سہارا ہوں اور میرے تین معصوم بچے بھی بے سہارا ہوگئے ہیں میرا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ پولیس کی بربریت نے میری ہنستی کھیلتی زندگی کو ویران کردیا میں حکومت تلنگانہ سے انصاف کی طلبگار ہوں مجھے ریاستی اور مرکزی پولیس پر کسی بھی قسم کا بھروسہ نہیں ہے میرے شوہر کے ساتھ پیش آئے نام نہاد پولیس انکاونٹر کی برسرخدمت جج سے تحقیقات کرائے جائے تاکہ مجھے اور میرے تین معصوم بچوں کو انصاف مل سکے۔ چہارشنبہ کی صبح آلیر کے قریب پیش آئے پولیس انکاونٹر میںہلاک ڈاکٹر حنیف ساکن مشیرآباد کی بیوہ نے اپنے شوہر کی نعش کے سامنے زار وقطار روتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے اس بات کا مطالبہ کررہی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ میرے شوہر کے خلاف پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے تمام گواہوں نے میرے شوہر کو بے قصور قراردیاتھا پولیس میرے شوہر کو قصوروار ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی تھی اور آئند ہ ماہ میرے شوہر کی باعزت رہائی بھی ممکن تھی مگر پولیس نے مدبھیڑ کے نام پرہاتھ بندھے ہوئے نہتے شخص پر انکاونٹر کے نام سے گولی چلائی تاکہ وہ زندہ نہیںبچ سکیں۔ ڈاکٹر حنیف کی نعش ان کے مکان واقع مشیرآباد پہنچنے کے ساتھ ہی مقامی عوام کی کثیرتعداد مرحوم کا دیدار کرنے کے لئے پہنچی جس میں غیرمسلم مرد وخواتین کی کثیرتعداد موجود تھی جو ڈاکٹر حنیف کی نیک نیتی اور اچھائیوں سے متاثر تھے۔ دیدار کے لیے آنے والی مقامی غیرمسلم خواتین نے بتایا کہ ڈاکٹر حنیف غریب اور نادار لوگوں کا مفت علاج کرتے تھے اسکے علاوہ ڈاکٹر حنیف ایک شریف النفس انسان تھے جو ہروقت اپنے مریضو ں کو اچھائی کی تلقین کیا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر حنیف کا دیدار کرنے والوں میںمجلس بچائو تحریک کے سابق کارپوریٹر امجد اللہ خان بھی شامل تھے جنھوں نے آلیر انکاونٹر کو پولیس کی سونچی سمجھی سازش کا حصہ قراردیا۔انہوں نے حکومت تلنگانہ سے اس ضمن میں مداخلت کرنے اور آلیر نام نہاد انکاونٹر کی جامع تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تاکہ مذکورہ انکاونٹر مہلوکین کے ورثہ کو انصاف مل سکے۔

TOPPOPULARRECENT