Wednesday , January 16 2019

پولیس نے ہمارے بچوں کو مارا ہے‘ ہمیں انصاف چاہئے

یونائیٹیڈ اگسینٹ ہیٹ کے کارکنان نے علی گڑھ میں مبینہ انکاونٹر میں ہلاک نوشاد اور مستقیم کی والدہ او ربچوں سے نئی دہلی کے پریس کلب میں روبرو کرایا‘ دنوں خوایتن نے روتے ہوئے کہاکہ یوپی پولیس نے ہمیں اپنے ہی گھر میں مقید بناکر رکھا تھا

نئی دہلی۔ گذشتہ دونوں علی گڑھ پولیس کی جانب سے کئے جانے والے نوشاد اور مستقیم نامی دونوجوانوں کے مبینہ انکاونٹرکی گونج یوپی سے دہلی تک آپہنچی ہے۔

مہلوکین کی ماؤں کو دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں صحافیوں سے روبرو کروانے پہنچے یو اے ایچ کے کارکن عمر خالد‘ ندیم خان ‘ پرشنانت ٹنڈن وغیرہ نے حقائق پر مبنی رپورٹپریس کلب کے سامنے پیش کی اور بتایا کہ یوپی پولیس نے کس طرح بے گناہوں کو ایک قتل معاملے میں پھنسانے کے بعد ان کا انکاونٹر کردیا

۔صحافیوں کے ہمراہ متوفی مستقیم کے معصوم بچوں کو لے کر پہنچی اس کی والدہ نے روتے ہوئے اپنی روداد پیش کی۔ انہو ں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو پولیس والے کھانا کھاتے ہوئے بلاکر لے گئے تھے اور پھر اس کی تلاش ہی دیکھنے کو ملی ۔

غسل وکفن کے بغیر ایک سفید چادر میں لپیٹ کر لاش کو ایک گڑھے میں دبانے کی بات کہتے ہوئے مستقیم کی والدہ زار وقطار رونے لگیں۔ انہو ں نے کہاکہ ہم دہلی خود اپنی مرضی سے یو ایچ اے والوں کے ساتھ ائے ہیں او روزیراعظم نریندر مودی سے انصاف چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے بچوں کواو رہمیں دہشت گرد بتایاجارہا ہے جبکہ پولیسسے زیادہ چور اور کون ہوگا جس نے ہمارے بچوں کومار کر ہمیں بھی اپنے گھر میں مقید کردیا۔

مستقیم کی بیوی عدت میں ہے او ر غیرمرد اس کے سامنے نہیں جانا چاہتے مگر اس کے کمرے میں ایک پولیس والا تعینات کردیاگیا ہے تاکہ اس سے کوئی بات نہ کرسکے۔اسی طر ح کا کہنا نوشاد کی والدہ کا بھی ہے

۔انہوں نے بتایا کہ پولیس والوں نے انہیں پڑسیوں کا لایاہوا کھانا تک کھانے نہیں دیاجس کے سبب وہ دور وز سے زیادہ بھوکے رہے ہیں

۔اے ایم یو طلبہ یونین کے صدر مشکور عثمانی نے کہاکہ ائین کی کھلی خلاف ورزی یوپی کی یوگی حکومت کے راج میں وہاں کی پولیس کررہی ہے اور اسی لئے ہم پر فرضی مقدمہ درج کرایاگیا ہے تاکہ ہم مظلومین کے حق میں آواز بلند نہ کرسکیں۔

عمر خالد نے کہاکہ ہم وہاں انکاونٹر کے تعلق سے سوالات کرنے گئے تھے مگر جس طرح کا رویہ یوپی پولیس نے ظاہر کیاہے اس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیابجرنگ دل کے لوگ یوپی پولیس کی ریزور فورسس کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں جو کہیں بھی اپنی غندہ گردی دکھانے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔

ندیم خان نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایس پی علی گڑھ اور ایس او اتروالی کو فوری طور پر برخواست کرتے ہوئے پورے معاملے کی جانچ ہائی کورٹ برسرخدمات جج سے کروائی جائے۔

انہوں نے کہاکہ بتایا ہم لوگ پیر کے روزنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور سپریم کورٹجائیں گے جہاں انصاف دئے جانے کی فریاد کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ساتھ پرشانت ٹنڈن‘ امیت سین گپتا‘ شارق حسین ‘ بنوچیتنیا‘ مولانا ماجد‘حاجی خالد سیفی ‘ عامر چودھری وغیر ہ بھی حقائق جاننے کے لئے متاثرین سے ملے تھے۔

TOPPOPULARRECENT