Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / پولیس پر مکان میں گھس کر نوجوان کو گولی ماردینے کا الزام

پولیس پر مکان میں گھس کر نوجوان کو گولی ماردینے کا الزام

ایک ماہ بعد بغرض پوسٹ مارٹم نعش کو قبر سے نکالا گیا
سرینگر۔/18اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) شہر کے علاقہ بٹامولا میں 10جولائی کو پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ایک نوجوان کی نعش کا آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، اس خصوص میں سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ شبیر احمد میر کی نعش کو آج قبر سے نکالا گیا تاکہ اس کی موت کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے پوسٹ مارٹم کیا جاسکے۔ پنچنامہ کے بعد نعش کو ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 12اگسٹ کو یہ حکم دیا تھا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی نگرانی میں 25سالہ نوجوان کی نعش کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے ۔ قبل ازیں مہلوک کے والد عبدالرحمن میر نے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ سرینگر کے روبرو ایک عرضی پیش کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے 16جولائی کو ان کے مکان میں داخل ہوکر بیٹے کو ہلاک کردیا ہے اور یہ اصرار کیا ہے کہ پولیس عملہ بشمول پولیس سپرنٹنڈنٹ یاسر قادر کے خلاف کیس درج کیا جائے۔ تاہم پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شبیر احمد کی موت وادی میں احتجاج کے دوران ہوئی ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے دو مواقع پر ایس ایس پی سرینگر کو ہدایت دی تھی کہ پولیس عملہ کے خلاف کیس درج کیا جائے۔ دریں اثناء ریاستی حکومت نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں سی  جے ایم کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کیلئے ایک درخواست پیش کی تھی لیکن ہائیکورٹ نے یہ احکامات برقرار رکھتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بعد ازاں سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ سرینگر کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر کو ہدایت دی کہ قصور وار پولیس عملہ کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے لیکن آئی جی پی بھی ان احکامات کی تعمیل سے قاصر رہے جس پر عدالت نے آئی جی پی اور ایس ایس پی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی۔ جس کے نتیجہ میں ریاست نے سپریم کورٹ میں ایک خصوصی توجہ دہانی کی ایک درخواست داخل کی اور عدالت العالیہ نے 9اگسٹ کو دو پولیس عہدیداروں کے خلاف توہین کی کارروائی پر حکم التواء جاری کیا ۔

TOPPOPULARRECENT