Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / پولیس کا تعصب بے قصور مسلم نوجوان بن گئے زندہ نعشیں

پولیس کا تعصب بے قصور مسلم نوجوان بن گئے زندہ نعشیں

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں مسلم نوجوانوں کی ایسی کئی المناک کہانیاں ہیں جسے سن اور پڑھ کر ایک ذی حس انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو کا سیل رواں جاری ہوجاتا ہے اور کچھ دیر کے لئے اس کا وجود خود کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ قارئین ہمارے وطن عزیز ہندوستان کی پولیس ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں میں موجود فرقہ پرست ذہنیت کے حامل عہدیداروں کی فرقہ پرستی، تعصب پسندی و جانبداری کے باعث اب تک بے شمار مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ و برباد ہوگئیں جو اپنے ناکردہ گناہوں کے جرم میں گرفتاری کے وقت نوجوان تھے، اب بوڑھے ہوگئے ہیں۔ ان کے جسم اس قدر لاغر ہوگئے ہیں کہ جھوٹے الزامات سے برآت اور قید سے آزادی کے باوجود وہ زندہ نعشوں کی طرح ہوگئے ہیں جن میں غم کا احساس ہے نہ ہی خوشیوں کی تمنا، ان کی آنکھیں ویران ہوگئی ہیں؟ چہرہ پر خموشی نے اپنا ڈیرہ جمالیا ہے۔ شاید دل چیخ چیخ کر خون کے آنسو رو رہا ہے لیکن اس کی آوازیں بھی ان بے قصور مسلمانوں کی آہوں میں ڈوب کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مسلمانوں کو جب رہائی حاصل ہوتی ہے ، عدالتیں انہیں بے قصور قرار دے کر بری کردیتی ہیں تو زندگی قید میں گذاری گئی زندگی سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ کل وہ اپنی ماں کے ہاتھوں کے لذیذ پکوان کھایا کرتے تھے، آج قید سے رہائی کے بعد وہ گھر لوٹے تو ماں جیسی ہستی کا وجود ہی گھر میں نظر نہیں آتا۔ لاڈ پیار کے ساتھ معمولی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے باپ کا بابرکت وجود دکھائی نہیں دیتا۔ بھائی بہنوں کی آنکھوں سے رواں آنسو تمام داستان غم بیان کردیتے کہ ماں نے اپنے لاڈلے کے غم میں روتے روتے اپنی جان جان آفرین کے حوالے کردی اور باپ یہ اُمید لئے اس دنیا سے رخصت ہوگیا کہ ایک دن میرا لعل ، میرا لغت جگر قید سے آزادی پاکر آئے گا اور اپنے باپ کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے گا۔
ایسی درد ناک کہانیاں ملک کی کئی ریاستوں میں آپ اور ہم کو سننے اور پڑھنے کو ملیں گی۔ان میں گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، دہلی، اترپردیش، تلنگانہ، تامل ناڈو، مہاراشٹرا اور کرناٹک وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی ہی ایک درد ناک کہانی گلبرگہ نثار الدین احمد کی ہے۔ اس مسلم نوجوان کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انتہائی ظالمانہ انداز میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا اور پھر اسے پورے 23 برسوں کے بعد قید سے آزادی کا پروانہ ملا۔ ان 23 برسوں میں نوجوان نثار الدین احمد بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے۔ خود وہ زندہ نعش کی طرح سمجھنے لگا ہے۔ بنا کسی جرم کے 23 برسوں تک قید میں رہنے کے بعد 11 مئی کو اسے قید سے آزادی نصیب ہوئی اس رہائی کے بعد وہ اچھی طرح چل پھر سکتا ہے نہ ہی آرام کی نیند وسکتا ہے۔ قید نے اسے بے خوابی کا شکار بنا دیا ہے۔ نثار الدین احمد کے مطابق جب انہوں نے قید سے رہائی پاکر اپنے قدم جیل سے باہر نکالے ان کی نظریں وہاں منتظر اپنے سے دو سال بڑے بھائی ظہیر الدین احمد پر پڑی جس کے ساتھ ہی انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاؤں انتہائی وزنی ہوگئے ہیں، ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا وجود منجمد ہوگیا ہو، پاؤں زمین میں دھنس گئے ہوں کچھ دیر کے لئے تو نثار الدین احمد اپنی رہائی کو بھی فراموش کرچکے تھے۔ نثار الدین احمد ان تین نوجوانوں میں شامل ہیں  جنہیں سپریم کورٹ نے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے تمام الزامات منسوبہ سے بری کرتے ہوئے نہ صرف ان کی عمر قید کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا ساتھ ہی ان لوگوں کی فوری رہائی کا بھی حکم دے ڈالا۔ اس طرح 11 مئی کو ان تینوں بے قصور مسلمانوں کی رہائی عمل میں آئی۔ ان پر شہادت بابری مسجد کی پہلی برسی کے موقع پر ٹرینوں میں 5 بم دھماکے کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے جن میں دو مسافرین ہلاک اور 8 زخمی ہوئے تھے۔ اگرچہ ان لوگوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کرکے برسوں قید میں رکھا گیا اس کے باوجود نثار اور دوسرے دو مسلم قیدیوں کے رشتے داروں نے ان کی بے گناہی ثابت کرنے ایک طویل قانونی لڑائی لڑی۔

23 برسوں تک قید میں رہ کر زندگی کی خوشیوں سے مکمل طور پر محروم رہنے والے نثار الدین احمد نے اپنی بے بسی اور مایوسی کا اظہار کچھ یوں کیا ’’میں نے اپنی زندگی کے اہم ترین 8150 دن جیل کی اندھیری کوٹھریوں میں گذارے، اب میرے لئے زندگی ختم ہوچکی ہے اور آپ جو دیکھ رہے ہیں وہ میں نہیں بلکہ ایک زندہ نعش ہے‘‘۔ نثار الدین احمد کے مطابق جب پولیس میں موجود انسانیت کے دشمنوں اور فرقہ پرست ٹولے نے انہیں گرفتار کرکے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا تھا اس وقت ان کی عمر صرف 20 برس تھی اور آج وہ 43 برس کے ہیں۔ آخری مرتبہ جب میں نے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا تھا تب اس کی عمر صرف 12 برس کی تھی اور آج اس کی بیٹی کی عمر 12 سال ہے۔ میری بھتیجی اس وقت صرف ایک سال کی تھی۔ اب اس کی شادی بھی ہوچکی ہے۔ میری خالہ زاد بہن مجھ سے دو سال چھوٹی تھی اب وہ نانی دادی بن چکی ہے۔ ایک نسل میری زندگی سے آگے بڑھ گئی۔ یاہو نیوز کے مطابق نثار الدین احمد نے قید سے آزادی کی اپنی پہلی رات جئے پور کی ایک ہوٹل میں گذاری۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں ’’ہوٹل کے کمرہ میں میں سو نہیں سکا، کمرے میں ایک آرام دہ بستر تھا چونکہ 22 برسوں تک میں فرش پر سوتا رہا ایسے میں آرام دہ بستر پر سو نے میں ناکام رہا۔ نثار بتاتے ہیں کہ انہیں 15 جنوری 1994ء کی تاریخ اچھی طرح یاد ہے جب انہیں گلبرگہ کرناٹک میں ان کے گھر کے قریب سے پولیس نے گرفتار کیا تھا تب وہ فارمیسی سال دوم کے طالب علم تھے۔ وہ بتاتے ہیں ’’15 دنوں میں ایک امتحان تھا میں اپنے کالج جار رہا تھا، ایک پولیس ویان میرا انتظار کررہی تھی۔ ایک شخص نے مجھے اپنی ریوالور دکھائی اور مجھے کار میں سوار ہونے پر مجبور کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کرناٹک پولیس کو میری گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں تھی کیونکہ پولیس کی یہ ٹیم حیدرآباد سے آئی تھی اور مجھے حیدرآباد ہی لے گئی‘‘۔ جہاں تک اس مقدمہ کے ریکارڈ کا سوال ہے اس میں بتایا گیا کہ 28 فروری 1994ء کو انہیں ایک عدالت میں پیش کیا گیا تب کہیں جا کر ان کے ارکان خاندان کو نثارکے اتہ پتہ کے بارے میں معلوم ہوا۔ نثار کو دو بھائی اور دو بہن ہیں جبکہ بڑے بھائی ظہیر الدین ممبئی میں ایک سیول انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں اپریل میں گرفتار کیا گیا۔ نثار نے مزید بتایا وہ ہمارے والد نور الدین احمد نے ہماری بے قصوری ثابت کرنے کے لئے تنہاکوششں کیں اور انہوں نے اس معاملہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سال 2006ء میں اپنی موت تک وہ ہماری رہائی کو یقینی بنانے کے لئے قانونی لڑائی لڑتے رہے۔ ظہیر نے بتایا کہ کسی کے دو جوان بیٹے اگر جیل میں ہوں تو کوئی بھی تصور نہیں کرسکتا کہ ایک خاندان کے لئے اس کا مطلب کیا ہوگا۔ ظہیر کو بھی اس مقدمہ میں سزائے عمر قید سنائی گئی لیکن انہیں 9 مئی 2008ء کو خرابی صحت کی بنیاد پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر رہا کردیا۔

کیونکہ جیل میں ان کے پھیپھڑے کے کینسر میں مبتلا ہونے کا پتہ چلا۔ ظہیر کہتے ہیں کہ وہ کینسر سے اس لئے لڑ سکے کیونکہ ہو لڑائی ہی اپنے بھائی کو جیل سے باہر نکالنے کا واحد طریقہ رہ گئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس مقدمہ پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کردی اور عدالت کو درخواستیں دیتے ہوئے یہ بتایا کہ کس طرح انہیں اور ان کے بھائی کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا گیا جس کے نتیجہ میں بالآخر سچائی کی فتح ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ان دونوں بھائیوں کے علاوہ دیگر دو نوجوانوں کی برأت کا اعلان کردیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس ریکارڈ میں ان دونوں بھائیوں پر کوٹا، حیدرآباد، سورت، کانپور اور ممبئی میں 5 اور 6 دسمبر 1993ء کی درمیانی شب علیحدہ علیحدہ طور پر دو تا 5 بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ بنگلور ۔کولا ایکسپریس میں بھی بم رکھا گیا تھا۔ تاہم کرجت ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک مسافر نے بم کو ٹرین سے باہر پھینک دیا۔ ان واقعات کے ضمن میں حیدرآباد پولیس نے سب سے پہلے نثار کو پھر ان کے بھائی ظہیر اور ان کے ایک پڑوسی محمد یوسف کار میکانیک کو گلبرگہ سے گرفتار کیا۔ ابتداء میں ان لوگوں کے خلاف اکتوبر 1993ء میں حیدرآباد کے ایک مسلم تعلیمی ادارے کے قریب پیش آئے بم دھماکہ کے سلسلہ میں مقدمہ درج کیا گیا اور مقدمہ عابڈس پولیس اسٹیشن نے درج کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں اُسی سال اگست اور ستمبر میں پیش آئے بم دھماکوں کے مقدمات میں ماخوذ کردیا گیا۔ پولیس نے جو ثبوت پیش کیا وہ صرف حراست میں دیا گیا ان لوگوں کا بیان تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ نثار، ظہیر اور یوسف سے اعتراف جرم عابد شاپ پولیس اسٹیشن میں پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے کروایا۔ اس کیس میں پولیس کی لاکھ کوششوں کے باوجود نثار، ظہیر اور یوسف کو 2007ء میں حیدرآباد کی ایک تحت کی عدالت نے بری دیا لیکن 28 فروری 2009ء میں اجمیر کی نامزد ٹاڈا عدالت نے نثار اور ظہیر کے بشمول دیگر 15 نوجوانوں کو سزائے عمر قید سنائی۔نثار کہتے ہیں کہ وہ اپنی برأت پر اور قید سے آزادی کے لئے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن کون ان کی زندگی واپس کرے گی۔ سپریم کوٹ میں ان دونوں بھائیوں اور دوسرے نوجوانوں کی پیروی ایڈوکیٹ نتیا راماکرشنن نے کی۔ نثار کے مطابق سپریم کورٹ نے ان مقدمات میں دس دیگر ملزمین کی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔ جن میں سے ایک شخص کی عمر 85 سال دوسرے کی 79 اور تیسرے کی 74 سال ہے اور شاید یہ لوگ جیلوں

Top Stories

TOPPOPULARRECENT