Wednesday , December 19 2018

پولیس کنٹرول روم کے فون نمبر 100 پر سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال

حیدرآباد /9 فروری ( سیاست نیوز ) عام شہریوں کے مسائل ، اطلاعات کی فراہمی اور شکایتوں کیلئے ریاست بھر تک وسعت دئے جانے والے ''100" نمبر کے استعمال پر بھی اثر و رسوخ کے سائے منڈلانے لگے ہیں ۔ دولت اور اثر و رسوخ پر کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی اور کسی بھی معاملہ کا رخ بدلنے کا ایک رحجان ہے ۔ لیکن عام تو عام اب یہ رحجان ایک با اثر شخصیت کے حق میں بھ

حیدرآباد /9 فروری ( سیاست نیوز ) عام شہریوں کے مسائل ، اطلاعات کی فراہمی اور شکایتوں کیلئے ریاست بھر تک وسعت دئے جانے والے ”100″ نمبر کے استعمال پر بھی اثر و رسوخ کے سائے منڈلانے لگے ہیں ۔ دولت اور اثر و رسوخ پر کسی بھی مسئلہ کی یکسوئی اور کسی بھی معاملہ کا رخ بدلنے کا ایک رحجان ہے ۔ لیکن عام تو عام اب یہ رحجان ایک با اثر شخصیت کے حق میں بھی پیش آیا ہے ۔ کل رات جوبلی ہلز کے علاقہ میں پیش آئی ایک واردات کے منظر عام پر آنے کے بعد حیرت انگریز انکشافات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک بیورو کریٹ آئی پی ایس عہدیدار نے دولت مند افراد جن کا سیاست سے بھی تعلق پایا جاتا ہے ۔ ان کے لڑکوں کی حرکتوں کے خلاف کنٹرول روم کو فون کیا تھا اور پولیس کی وہاں آمد اور ان لڑکوں کو حراست میں لینا اور اس علاقہ میں شرارت کا کم ہونا یہ سب بات ایک معمہ بن گئی ہے ۔ جبکہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاوز آفیسر جوبلی ہلز کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت یا پھر کیس بک نہیں ہوا ۔ جو مسئلہ تھا وہ کنٹرول روم سے ہوا ۔ تاہم جب اگر کنٹرول روم سے فون آتا ہے تو کیا مقامی متعلقہ پولیس چوکس نہیں ہوتی اگر ایسا ہے تو پھر کیا اس پولیس اسٹیشن کے ذمہ دار کو اس بات کا علم نہیں ہوتا ۔ ایسے ہی کچھ سوالات اور حالات پر شہریوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جبکہ ایک انگریزی اخبار نے بھی اس واقعہ کی خبر کو شائع کیا ہے ۔ سیاستدانوں کے علاوہ تلگو فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات کے لڑکے موجود تھے۔ جو رات دیر گئے علاقہ میں شرارت کر رہے تھے اور ان کی ان حرکتوں سے کافی پریشانی ہو رہی تھی ۔اس بڑے عہدیدار نے جس کا تعلق بھی خود پولیس سے ہے اس نے فوری کنٹرول روم کو فون کیا اور پولیس وہاں پہونچی تاہم کچھ بھی کارروائی نہیں ہوئی ۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس سینئیر آئی پی ایس عہدیدار کی کنٹرول روم سے شکایت کے بعد شکایت متعلقہ پولیس اسٹیشن سے نہیں کی گئی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس عہدیدار نے اپنی شناخت کو ظاہر نہ کرتے ہوئے مسئلہ کو صرف کنٹرول روم تک ہی محدود کردیا اور آگے شکایت نہیں کروائی اور پولیس نے کونسلنگ کے بعد یا پھر قبل ازیں انہیں وہاں سے ہٹا دیا ۔

TOPPOPULARRECENT