Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / پولیس کو اب مائتری ارکان سے کوئی دلچسپی نہیں،سوشیل نٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعہ عوام دوست بننے کی کوشش

پولیس کو اب مائتری ارکان سے کوئی دلچسپی نہیں،سوشیل نٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعہ عوام دوست بننے کی کوشش

حیدرآباد /3 مارچ ( محمد علیم الدین ) حیدرآباد سائبرآباد سٹی پولیس عوام دوست پالیسیوں پر عمل آوری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہے ۔ عوام کو پولیس سے قریب کرنے اور دوستانہ ماحول کو فروغ دیتے ہوئے پولیس اپنے کام میں آسانی کے علاوہ عوامی سہولیات کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور پولیس نے اس پالیسی میں سوشیل نٹ ورکنگ سائٹ کا سہارا لیا ہے ۔ ان سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹ سے جہاں عوام پولیس کے قریب اور اطلاعات آسان ہوگئیں وہیں کئی دہوں سے پولیس کیلئے رات دن کام کرنے والے مائتری ممبرس دور ہوتے جارہے ہیں ۔ خود پولیس بھی انہیں قریب کرنے یا پھر ان سے تعلقات بنائے رکھنے میں ہے ایسا لگتا ہے کہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتی ۔ کسی بھی پروگرام کے منصوبہ سے لیکر اس کی انجام دہی تک پیش پیش رہنے والے چند افراد تہواروں سے زیادہ پولیس کے فلاحی کاموں کو اہمیت دینے والے اور ہر وقت کسی نہ کسی پولیس اسٹیشن کے باہر انسپکٹر کے دفتر پر سفید وردی میں نظر آنے والے افراد ان دنوں پولیس اسٹیشن پر نظر نہیں آرہے ہیں ۔ چونکہ پولیس کو ان کی جو خدمات درکار تھیں اب ایسا لگتا ہے یہ خدمات سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹ سے پوری ہو رہی ہے ۔ بلکہ توقع و اندازے سے کہیں زیادہ پولیس کیلئے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ بلکہ سائبرآباد پولیس اس معاملہ میں حیدرآباد سٹی پولیس سے آگے ہے ۔ سائبرآباد سٹی پولیس نے عوام سے مزید قریب ہونے کیلئے ’’واٹس اپ ‘‘ کا استعمال کرلیا ہے اور اپنا واٹس اپ نمبر بھی عوام میں جاری کردیا ہے ۔ جس کے بہترین نتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں خود کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سی وی آنند کا کہنا ہیکہ واٹس اپ کو جاری کئے ایک ہفتہ ہی گذر اہے کہ ہر روز ہزاروں شہری پولیس کو اطلاعات، مشورہ وشکایتیں اور اپنے مسائل پیش کر رہے ہیں ۔واٹس اپ کیلئے سائبرآباد میں باضابطہ ایک کنٹرول روم بھی کام کر رہا ہے اور امکان ہے کہ بہت جلد سائبرآباد پولیس واٹس اپ کو ڈائیل 100 سے جوڑ دے گی ۔ فیس بک ، واٹس اپ جیسے سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹس سے حیدرآباد میں ایک چور کو پکڑا گیا ۔ نلہ کنٹہ پولیس نے ایک عادی سارق جو مندروں میں سرقہ کرتا تھا ۔ اسے گرفتار کرلیا ۔ سرقہ کی تصاویر فیس بک پر انسپکٹر نے لوڈ کی تھیں اور اس کے ذریعہ سے سارق کا آسانی سے پتہ چلایا گیا جبکہ چندا نگر اے ٹی ایم سرقہ ہو یا پھر چندرائن گٹہ میں بیوی کے قاتل شوہر کو ان ہی سوشیل نٹ ورکنگ سائیٹس سے پکڑا گیا ۔ گذشتہ آر جی آئی ایرپورٹ کے کیس کو جس میں ایک مسلم نعش کو واٹس اپ کے ذریعہ عام کیا گیا تھا ۔ چند ہی گھنٹوں میں اس کی شناخت ہوگئی اور نعش ورثہ کے حوالے کردی گئی ۔ ایک طرف پولیس کیلئے آسانی ہے دوسری طرف مشکلات بھی ہیں ۔ تاہم ایک عرصہ سے پولیس کے داہنے ہاتھ کی مانند خدمات انجام دینے والا ایک مخصوص طبقہ کیا پولیس سے دور ہوتا جارہا ہے ؟ ایک بھروسہ مند گروپ جو پولیس کیلئے ہمیشہ سرگرم رہتاتھا ۔ کیا پولیس کو اب ان کی ضرورت نہیں رہی؟ اب خود عوام ہی پولیس سے متعلقہ اسٹیشن کے عہدیداروں سے راست رابطہ میں ہیں ۔ عوام کو حکومت اور پولیس کے عہدیداروں نے اسٹیشن ہاؤز آفیسر اور متعلقہ علاقوں کے اعلی عہدیداروں سے قریب کردیا ہے اور فرینڈلی پوسٹنگ کے بہترین نتائج کے کام کا آغاز شروعاتی مرحلہ میں ہے اور عوام پولیس کی اس پالیسی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ تاہم پولیس کے اس قدیم عوامی نٹ ورک کو سوشیل نٹ ورکنگ نے بے اثر کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT