Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / پولیس کو عصری بنانے سے امن و ضبط کی صورتحال قابو میں

پولیس کو عصری بنانے سے امن و ضبط کی صورتحال قابو میں

جرائم کی شرح میں کمی کا ادعا ، وزیر داخلہ تلنگانہ این نرسمہا ریڈی کا کونسل میں بیان
حیدرآباد ۔15۔ نومبر (سیاست نیوز) وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ پولیس کو عصری بنانے کے اقدامات کے سبب امن و ضبط کی صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملی ہے اور جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کونسل میں امن و ضبط کی صورتحال اور پولیس کو عصری بنانے کے موضوع پر مختصر مباحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے حکومت نے امن و ضبط پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے اور عوام دوست پولیسنگ کے ذریعہ پولیس اور عوام کے رابطہ کو مستحکم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے عید و تہوار پرامن انداز میں منائے جارہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سائبر کرائم اور خاص طور پر وائیٹ کالر جرائم میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے علحدہ آئی ٹی کیڈر کی تشکیل کی تجویز زیر غور ہے تاکہ سائبر جرائم کی تحقیقات موثر انداز میں کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکوریٹی اور سائبر کرائم انویسٹیگیشن حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حیدرآباد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو عصری بنانے کے بنانے کے منصوبہ کے تحت مرکزی حکومت ہر سال اپنی حصہ داری کے مطابق بجٹ جاری کر رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جرائم پر قابو پانے کیلئے مختلف عصری آلات حاصل کئے گئے ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء میں جرائم کی تعداد 1012803 جو کافی حد تک گھٹ چکی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 8000 گاڑیوں کی خریدی کیلئے 217 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور سائبر آباد کی طرح تمام اضلاع میں پولیس اسٹیشنوں کو نئی گاڑیاں فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے دیہی علاقوں ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اور سٹی پولیس اسٹیشنوں کیلئے ماہانہ بجٹ کو بڑھاکر علی الترتیب 25 ہزار ، 50 ہزار اور 75 ہزار کردیا ہے ۔ حکومت نے 20 منزلہ عالمی معیار کی پولیس کمانڈ اور کنٹرول سنٹر کی تعمیر کو منظوری دی ہے جو بنجارہ ہلز میں قائم کیا جائے گا ۔ حکومت نے حیدرآباد اور سائبر آباد میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور موافق عوام ماحول پیدا کرنے کیلئے 65 کروڑ روپئے فراہم کئے ۔ حکومت نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں سی سی ٹی وی سسٹم کیلئے 650 کروڑ روپئے مختص کئے ۔ انہوں نے کہا کہ روڈی ازم پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کئے جارہے ہیں۔ منظم جرائم اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے گروہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کو 10 کر وڑ روپئے مختص کئے گئے۔ خواتین کے تحفظ کیلئے شی ٹیمس تشکیل دی گئی۔ خواتین کے مختلف مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں کونسلنگ فراہم کی جارہی ہے اور بھروسہ سنٹر قائم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے ٹریفک جنکشن کو اپ گریڈ کیا گیا ، اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک چالانات کے بجائے آن لائین چالانات کا سسٹم متعارف کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مجرموں اور مشتبہ افراد کو پکڑنے کیلئے کالونیوں اور علاقوں میں کارڈن سرچ کا باقاعدہ اہتمام کیا جارہا ہے ۔ نرسمہا ریڈی نے بتایا کہ حکومت نے پولیس اور ان کے افراد خاندان کی بھلائی کیلئے بھی کئی اقدامات کئے ہیں ۔ ہوم گارڈس کے الاونس کو تین سو روپئے روزانہ سے بڑھاکر 400 روپئے کیا گیا ہے ۔ پولیس عہدیداروں کے افراد خاندان کو آروگیہ بھدرتا اسکیم کے دائرہ میں شامل کیا گیا۔ ہلاک یا زخمی ہونے والے پولیس ملازمین کیلئے کم سے کم 40 لاکھ یا زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپئے ایکس گریشیاء ادا کیاجاتا ہے۔ حیدرآباد و سائبر آباد میں غذا کیلئے الاؤنس کو 90 روپئے سے بڑھاکر 250 کیا گیا۔ 40 سال سے زائد عمر کے تمام ملازمین پولیس کیلئے مفت ہیلتھ چیک اپ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT