Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پولیس کی اموات پر افسوس کی کوئی آواز نہیں

پولیس کی اموات پر افسوس کی کوئی آواز نہیں

حیدرآباد 8 اپریل (سیاست نیوز) ایسا لگتا ہے کہ دس دن سے موت سڑکوں پر رقص کررہی ہے۔ اچانک انکاؤنٹر کا سلسلہ عام شہریوں کے دلوں میں خوف و دہشت طاری کردیا۔ ایک طرف بار بار چند دنوں سے پولیس یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ پولیس عوام کی دوست ہے اور ظالموں کی دشمن ہے جبکہ محافظ ہی اب عوام میں اپنے اعتماد کو بحال نہیں کرپارہے ہیں کیونکہ گزشتہ انکاؤن

حیدرآباد 8 اپریل (سیاست نیوز) ایسا لگتا ہے کہ دس دن سے موت سڑکوں پر رقص کررہی ہے۔ اچانک انکاؤنٹر کا سلسلہ عام شہریوں کے دلوں میں خوف و دہشت طاری کردیا۔ ایک طرف بار بار چند دنوں سے پولیس یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ پولیس عوام کی دوست ہے اور ظالموں کی دشمن ہے جبکہ محافظ ہی اب عوام میں اپنے اعتماد کو بحال نہیں کرپارہے ہیں کیونکہ گزشتہ انکاؤنٹر میں جہاں پولیس ملازمین کی ہلاکت ہوئی وہ بھی قابل مذمت ہے۔ کسی عہدیدار کا قتل ہو یا عام آدمی کا ہو، قتل تو انسانیت کا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی یا تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک روایت ہمارے ملک میں چلی آرہی ہے کہ جب کبھی اتفاقی حادثات میں خواہ کسی طبقہ کا شخص کیوں نہ ہو مرجاتا ہے یا ماردیا جاتا ہے تو اجنبی کی آنکھ بھی پُرنم ہوجاتی ہے۔ برعکس اس کے ہم ہر زاویہ سے جائزہ لیں تو پولیس والوں کی موت پر کبھی کسی کو افسوس کرتے نہیں دیکھا گیا آخر کیوں؟ کیا محکمہ پولیس کے عہدیداروں نے انسانیت کی چادر اُتار دی ہے؟ یقینا دو دن قبل پولیس عہدیداروں کی اموات پر ان کے متعلقین کو بلکتا ہوا دیکھ کر گھر کے لوگ رونے والوں کی حالت پر افسوس کررہے ہیں کیونکہ جس پر گزرتی ہے وہ ہی اپنی تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ تلنگانہ کی پولیس نے عدالت کو منتقلی کے دوران جن نوجوانوں کو موت کی نیند سلادیا،

اس واقعہ کو کوئی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ ان نوجوانوں نے پولیس پر حملہ کی کوشش کی۔ آج ہر اخبار، ہر ٹی وی چیانل پر اس واقعہ کو لے کر پولیس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ پولیس کے عہدیداروں نے قتل کو انکاؤنٹر کی شکل دے دی۔ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ’’تم کرو تو تحفظ ہم کریں تو تشدد‘‘ کوئی بھی ذمہ دار شہری کسی بھی قسم کا کوئی تشدد نہیں چاہتا نہ ہی تشدد میں ملوث انتہا پسندوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے لیکن محکمہ پولیس کی اپنی بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو دوست بنانے کی بات کرنے سے پہلے اپنے آپ کو سماج میں ایسا تاثر دیں کہ ان کی بھی کسی تکلیف پر ہر شہری کو دُکھ ہو۔ اس لئے کہ کل کے انکاؤنٹر کے بعد عوام میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کہ کب کس مقدمہ میں پولیس جنگل لے جاکر انکاؤنٹر نہ کردے؟ ضروری ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کے لئے پولیس غیر جانبدارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے عوام میں اپنا اعتماد بحال رکھے۔ کوئی بھی طبقہ نہ ہی دہشت گردی نہ ہی انتہا پسندی کو قبول کرتا ہے بلکہ ہر طبقہ پرامن زندگی گزارنے کا متمنی ہے۔

TOPPOPULARRECENT