Monday , December 11 2017
Home / جرائم و حادثات / پولیس کی وردی میں عوام سے جبراً وصولی کا شاخسانہ

پولیس کی وردی میں عوام سے جبراً وصولی کا شاخسانہ

خود ساختہ پولیس خود اصلی پولیس ثابت، دیگر ملزمین بھی گرفتار
حیدرآباد۔/20اکٹوبر، ( سیاست نیوز) پولیس کی شکل میں پولیس کو بدنام کرنے کے کئی واقعات منظر عام پر آئے لیکن پولیس کی شکل میں پولیس کو بدنام کرنے کا ایک سنسنی خیز واقعہ شہر کے نواحی علاقہ میں پیش آیا، جہاں پولیس نے ایک ایسی ٹولی کو گرفتار کرلیا جو پولیس کے بھیس میں عوام سے جبراً وصولی کررہی تھی۔ تاہم پولیس اس وقت حیرت میں پڑ گئی جب اس خود ساختہ نقلی پولیس کا اصل سرغنہ ایک اصلی پولیس والا نکلا۔ پولیس کی وردی کو بدنام کرنے والے اس پولیس والے کی سرگرمیوں سے پولیس شرمسار ہوگئی۔ غنڈہ عناصر سے ساز باز، لینڈ گرابرس کی پشت پناہی ، مبینہ رشوت خوری اور متاثرین کا استحصال حقیقی افراد کے مقابل خاطیوں کی مدد ایسے کئی الزامات سے پولیس محکمہ پہلے ہی بدنامی کا شکار ہے اور اب ایسے واقعات کمیونٹی پولیسنگ کے اس دور میں اعلیٰ عہدیداروں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ ملکاجگیری پولیس حدود میں پیش آیا جہاں پولیس نے پولیس کانسٹبل کے بشمول 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ یہ ٹولی جبراً وصولی کے معاملات میں ملوث تھی اور اس ٹولی نے عنبرپیٹ کے علاقہ میں شکایت گذار ایک شخص کو اس بات سے دھمکایا تھا کہ وہ جسم فروشی کا کاروبار کررہا ہے اور اسے مقدمات میں پھانسا جائے گا۔ اس خصوص میں اسسٹنٹ کمشنر پولیس ملکاجگری مسٹر سندیپ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 26سالہ کے سائی کمار ساکن بوئن پلی، 28 سالہ جی سبا راؤ ساکن بوئن پلی، 28 سالہ ایم کرونا کمار ساکن رامنتا پور اپل، 27 سالہ بی بن جانسن ساکن بوئن پلی، 24 سالہ بی پون عرف پون ساکن رامنتا پور کو گرفتارکرلیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں کے سائی کمار حیدرآباد میں بحیثیت اے آر کانسٹبل بتایا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں کرن کمار اور پون نے سب انسپکٹر تقررات کیلئے خانگی انسٹی ٹیوٹ میں تربیت بھی حاصل کیا تھا۔ اس طرح لوٹ مار کے خطرناک رجحانات والے افراد بھی پولیس محکمہ کو تلاش کررہے ہیں جو محکمہ میں شمولیت سے قبل ہی پولیس کے ہاتھ لگ گئے۔ انہوں نے پیرزادی گوڑہ علاقہ کے ساکن ایک شخص جس نے شکایت کی کہ بی شیوانند کو دھمکایا اور اسے ہراساں کررہے تھے اور اس ٹولی نے خود کو ٹاسک فورس ٹیم ظاہر کیا اور قحبہ گیری کے معاملہ میں پھانستے ہوئے قانونی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ 10اکٹوبر کو شکایت گذار کے مکان پہنچے اور گرفتار بن جانسن نے جو وردی پہنے ہوئے تھا خود کو سب انسپکٹر ظاہر کیا اور اس سے 2 لاکھ روپئے کا مطالبہ کرنے لگے اور جبرا 8800 روپئے شکایت گذار کے پرس سے لیکر چلے گئے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں۔ شکایت گذار شخص کی بیوی نے اپنے اے ٹی ایم کے ذریعہ دو دن بعد 20 ہزار روپئے ادا کئے جس کے بعد انہیں دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ایس اے ٹی نے خصوصی آپریشن کے ذریعہ ان افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے پولیس کی وردی، 63 ہزار روپئے نقد رقم، 5سیل فونس، موٹر سیکل اور ایک بچے کھیلنے کا بندوق ضبط کرلیا۔

 

TOPPOPULARRECENT