Friday , December 15 2017
Home / جرائم و حادثات / پولیس کے اعلی عہدیداروں کے ہاتھوں مسلم کانسٹیبل ہراسانی کا شکار

پولیس کے اعلی عہدیداروں کے ہاتھوں مسلم کانسٹیبل ہراسانی کا شکار

کمیونٹی اور فرینڈلی پولسنگ پر بدنامی ،متاثرہ شخص احمد عبدالعلی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /25 جولائی ( سیاست نیوز ) کمیونٹی اور فرینڈلی پولیسنگ کے اس دور میں پولیس کے ہاتھوں خود پولیس ملازم ہی محفوظ نہیں ۔ مبینہ طور پر لینڈ گرابرس روڈی شیٹرس ، غنڈہ عناصر کی پشت پناہی کے الزامات کا سامنا کرنے پولیس کے اعلی عہدیدار اب پولیس ملازمین کو ہراساں کر رہے ہیں ۔ کمشنر پولیس نے نئی پالیسیوں سے معمول کو بند کروادیا تاہم محکمہ جاتی سطح پر معمول کا نظام اب لگتا ہے زور پکڑتا جارہا ہے ۔ ایک ایسی ہی حقیقت کا خود ایک پولیس ملازم نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ۔ پولیس کمیونکیشن شعبہ سے وابستہ ہیڈ کانسٹیبل احمد عبدالعلی نامی اس پولیس ملازم نے بتایا کہ اس کا سینئیر عہدیدار ڈی ایس پی کمیونکیشن مسٹر ای مہیشور ریڈی نے اسے شدید زدوکوب کیا اپنے اعلی عہدیدار کے خلاف پریس کانفرنس میں بے خوف ہوکر اس ہیڈ کانسٹیبل نے اعلی عہدیداروں کے ظلم کا شکار دیگر ملازمین کیلئے ایک مثال بن گیا ہے ۔ تاہم افسوس کہ دوران ڈیوٹی حملہ کرتے ہوئے شدید زخمی کرنے والے اے سی پی کے خلاف کارروائی کا نہ ہونا تشویش کا باعث بناہوا ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل احمد عبدالعلی نے اے ایس پی کی بدسلوکی داستان سنائی اور اس کے فون ریکارڈنگ کو بھی میڈیا کے روبرو پیش کیا ۔ جس میں صاف طور پر ’’ ترکا‘‘ نام سے اے سی پی نے گالی گلوج کی اور ناقابل بیان الفاظ کا استعمال کیا ۔ احمد عبدالعلی کے افراد خاندان کو گالی گلوج کی اور سخت کارروائی کا بھی انتباہ دیا ۔ متاثر ہیڈ کانسٹیبل کے مطابق 22 جون کو اے سی پی مہیشور ریڈی اپنے دفتر میںاحمد عبدالعلی پر مبینہ حملہ  کیا ۔ جس کے خلاف شکایت پر سیف آباد پولیس نے 5 دن بعد ایف آئی آر درج کی ۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد عدم کارروائی پر احمد عبدالعلی نے انسانی حقوق کمیشن کا رخ کیا اور 16 جولائی کو ایم آر سی میں اپنی درخواست پیش کی اور اس کے بعد 18 جولائی کو میناریٹی کمیشن کا رخ کرتے ہوئے انصاف کی درخواست کے باوجود اس کے ایک ماہ کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی ڈی ایس پی کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی انجام نہیں دی گئی ۔ اس اے سی پی پر الزام ہے کہ یہ عہدیادر عملہ کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے اور اوور ٹائم اور چھٹیوںکی رقم ہڑپ لیتا ہے کمیونکیشن شعبہ سے وابستہ ملازم ظلم کے خلاف آواز اس لئے نہیں اٹھاتے چونکہ ایسا کرنے سے ان کی ڈیوٹی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے کموینکیشن شعبہ میں ریاست گیر سطح پر تبادلہ ہوتے ہیں ۔ ڈی ایس پی مہیشور ریڈی کے ایک بھائی بھی اے سی پی سطح کے عہدیدار ہیں ۔ شنکر ریڈی جو شہر میں کافی شہرت رکھتے ہیں اس عہدیدار پر الزام ہے کہ اس نے ایک خاتون سب انسپکٹر کے ساتھ بھی بدسلوکی کی اور اس خاتون سب انسپکٹر کی مبینہ عصمت ریزی کی کوشش کی جب وہ وجئے واڑہ میں فائز تھا ۔ تاہم خاتون سب انسپکٹر اب وجئے واڑہ میں خدمات انجام دے رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایس پی مہیشور ریڈی 31 جولائی کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اس عہدیدار پر عائد الزامات کا جائزہ لے اور ملازم کے ساتھ انصاف کرے ۔

TOPPOPULARRECENT