Wednesday , February 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پولیس ہراسانی کے خلاف دفتر پولیس کمشنر پر خواتین کا احتجاج

پولیس ہراسانی کے خلاف دفتر پولیس کمشنر پر خواتین کا احتجاج

زندگیوں اور مکانات کو خطرہ کا اظہار، شکایت کے باوجود عدم کارروائی پر ردعمل
حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں پولیس کی مبینہ لاپرواہی سے تنگ آکر آج غوث نگر کی عوام نے دفتر کمشنر آف پولیس پر زبردست احتجاج کیا۔ غوث نگر علاقہ کے عوام جو ہاتھوں میں پلے کارڈز اور تصاویر کے ساتھ مظاہرہ کررہے تھے بتاا کہ یہ ان کی تصاویر ہیں جس سے ان کے مکانوں اور زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ لیکن بارہا نمائندگی و شکایتوں کے باوجود چندرائن گٹہ پولیس کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ خواتین نے جو برقعہ پوش تھیں اپنی فریاد سناتے ہوئے رو پڑیں اور کہاکہ پولیس ان کی مدد کرنے سے قاصر ہے اور پولیس چندرائن گٹہ پر ان احتجاجی خواتین نے الزام لگایا کہ وہ خاطی افراد کے ساتھ ملکر غریبوں کو بے گھر کرنا چاہتی ہے۔ چندرائن گٹہ انسپکٹر پر مبینہ ساز باز کا الزام لگاتے ہوئے ان خواتین نے بتایا کہ انسپکٹر ایف آئی آر درج کرنے کے باوجود بھی کارروائی سے قاصر ہیں۔ فاطمہ، سارہ تبسم، شاہین بیگم، رابعہ بیگم، بانو بیگم، عبدالخالق نواز الدین اور دیگر نے بتایا کہ انہیں اب دن اور رات میں کوئی فرق نہیں رہا چونکہ رات کو وہ سونے سے بھی گھبرارہے ہیں کہ کہیں ان کے مکان کو بلڈوزر تو نہیں لگایا جائے گا۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ 20 سال قبل انہوں نے غوث نگر میں اراضی خریدی تھی اور اب گزشتہ چند عرصہ سے چند افراد جن میں مقامی افراد کی اکثریت شامل ہیں نے اس اراضی پر اپنا حق جتا رہے ہیں اور ان افراد کی سرگرمیوں کے خلاف پولیس سے رجوع ہونے پر پولیس کارروائی سے قاصر ہے۔ احتجاجی خواتین نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صرف چندائن گٹہ ہی نہیں بلکہ پورے ساؤتھ زون میں پولیسنگ کا یہی حال ہے ۔ عوام نے کہا کہ عہدیداروں کی لاپرواہی کے خلاف اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی پر بھی غریب عوام کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ خواتین نے حکومت اور پولیس سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT