Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / پونیفلم انسٹی ٹیوٹ کے 5 طلباء گرفتاری و رہائی ڈائرکٹر کا گھیراؤ ،دفتر میں توڑ پھوڑ کا الزام، راہول گاندھی اور فلمی شخصیتوں کا شدید ردعمل

پونیفلم انسٹی ٹیوٹ کے 5 طلباء گرفتاری و رہائی ڈائرکٹر کا گھیراؤ ،دفتر میں توڑ پھوڑ کا الزام، راہول گاندھی اور فلمی شخصیتوں کا شدید ردعمل

پونے ۔ 19 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) پولیس نے کل رات دیر گئے اچانک کارروائی کرتے ہوئے فلم ا ینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے 5 طلباء کو ادارہ کے ڈائرکٹر پرشانت پتھرابے کے گھیراؤ کے دوران پرتشدد احتجاج کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ بعد ازاں انکی رہائی عمل میں آئی۔ یہ طلباء انسٹی ٹیوٹ کے صدرنشین کی حیثیت سے بی جے پی رکن اور ٹی وی اداکار گجیندر چوہان کی نامزدگی کے خلاف گزشتہ 69 روز سے ہڑتال پر ہیں جنہوں نے انسٹی ٹیوٹ کے ایک ڈائرکٹر پرشانت پتھرابے کا پیر کی شام 2008 ء بیاچ کے نامکمل ڈپلوما فلم پراجکٹس کی منظوری کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے گھیراؤ کردیا تھا اور ڈائرکٹر کو تقریباً 6 گھنٹوں تک ان کے چیمبر میں محصور کردیا تھا ۔ گرفتار شدگان میں FTII کی طلباء اسوسی ایشن کے نمائندہ وکاس ارس بھی شامل ہیں۔ ڈی سی پی مسٹر ٹی تشار دوشی نے بتایا کہ جملہ 15 طلباء کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں لیکن 5 طلباء کو ہی گرفتار کیا گیا ہے ۔ ان  طلباء کے خلاف غیر قانونی احتجاج، مجرمانہ طریقہ سے ڈرانے دھمکانے اور توڑ پھوڑ کا الزام عائد کیا گیا جس میں بعض دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔ ڈائرکٹر پرشانت پتھراجے نے احتجاجی طلباء کے خلاف یہ شکایت کی کہ اوقات دفتر کے بعد انہیں زبردستی محصور کردیا گیا اور ان کے اختیارات پر سوال کرتے ہوئے ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔ علاوہ ازیں طلباء پر ڈائرکٹر کے دفتر میں توڑ پھوڑ ،

 

شیشوں ، کمپیوٹرس اور فرنیچر کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔دریں اثناء طلباء نے نامکمل فلمی پراجکٹس کے اسسمنٹ سے متعلق ڈائرکٹر کے فیصلہ کو غیر منصفانہ اور ناجائز اور ناقابل قبول قرار دیا ہے اور بتایا کہ جاریہ احتجاج کو کمزور کرنے کی خاطر ایف ٹی آئی آئی کی اکیڈیمک کونسل کی منظوری کے بغیر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ طلباء کا یہ مطالبہ ہے کہ گنجیندر چوہان کو صدرنشین کے عہدہ سے فی الفور ہٹادیا جائے۔ تاہم ڈائرکٹر پرشانت پتھراجے نے احتجاجی طلباء پر الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ  غیر شائستہ سلوک، غیر مہذب انداز میں پوچھ تاچھ اور ذ ہنی اذیت دی گئی جسپر احتیاطی اقدامات کیلئے پولیس سے رجوع ہوئے ہیں لیکن طلباء کے خلاف کارروائی میں وزارت اطلاعات و نشریات کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 40 طلابء میرے دفتر میں گھس آئے اور میرے ساتھ بدتمیزی ، دھمکیاں اور دھکم پیل کرتے ہوئے بے عزتی سے پیش آئے اور 2008 ء بیاچ کے نامکمل فلمی پراجکٹس کی منظوری کے بارے میں بار بار پوچھنے لگے ۔ دریں اثناء کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج FTII طلباء کی گرفتاری پر حکومت کی مذمت کی ہے اور وزیراعظم  سے کہا کہ یہ طلباء کوئی مجرم نہیں تھے جنہیں نصف شب کو گرفتار کرلیا گیا ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پر دریافت کیا کہ احتجاجی طلباء کو آدھی رات کے وقت کیوں گرفتار کیا گیا جبکہ وہ کوئی مجرم نہیں تھے ۔ انہوں نے وزیراعظم کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ اچھے دن کیلئے مودی کا منتر خاموشی، معطلی اور گرفتاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT