پونے آئی ٹی ماہر کا قتل ، ہندو راشٹرسینا کے مزید 4 کارکن گرفتار

پونے ؍ نئی دہلی۔ 5 جون (سیاست ڈاٹ کام) پونے میں مسلم نوجوان آئی ٹی پروفیشنل کے ظالمانہ قتل کے سلسلے میں پولیس نے اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے ہندو راشٹر سینا کے مزید 4 کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس طرح اب تک جملہ 17 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں لیکن حکام اِن کے خلاف ایسی دفعہ نافذ کرنے سے گریز کررہے ہیں جن میں ضمانت کا حصول مشکل ہوجائے۔

پونے ؍ نئی دہلی۔ 5 جون (سیاست ڈاٹ کام) پونے میں مسلم نوجوان آئی ٹی پروفیشنل کے ظالمانہ قتل کے سلسلے میں پولیس نے اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے ہندو راشٹر سینا کے مزید 4 کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس طرح اب تک جملہ 17 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں لیکن حکام اِن کے خلاف ایسی دفعہ نافذ کرنے سے گریز کررہے ہیں جن میں ضمانت کا حصول مشکل ہوجائے۔ شیخ محسن صادق (28 سال ) مضافاتی علاقہ ہڑپسر میں بینکرس کالونی کے ساکن تھے۔ اُنہیںدائیں بازو کی انتہاء پسند تنظیم ’’ہندو راشٹر سینا‘‘ کے کارکنوں نے مبینہ طور پر ہاکی اِسٹکس کے ذریعہ بُری طرح زدوکوب کرتے ہوئے ہلاک کردیا۔ اس تنظیم نے شیواجی اور شیوسینا سربراہ آنجہانی بال ٹھاکرے کے خلاف بعض نامعلوم افراد کی جانب سے فیس بُک پر اہانت آمیز تبصرے کرنے پر یہ انتقامی کارروائی کی۔ پونے پولیس کمشنر ستیش ماتھر نے کہا کہ گرفتار شدگان کے خلاف خطرناک سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت دفعات نافذ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ اگر یہ دفعات عائد کی جائیں تو اُن کی ضمانت مشکل ہوجائے گی۔ ایک طرف حکام نے ملزمین کے خلاف کارروائی جاری رکھی، دوسری طرف پونے کے نومنتخب بی جے پی کے رکن پارلیمان انیل شرولے نے یہ متنازعہ بیان دیا کہ قتل کا یہ واقعہ اگرچہ افسوسناک ہے،

لیکن اہانت آمیز تبصروں پر ایسا ردعمل فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پونے میں امن کی بحالی کے لئے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں اور عوام بھی امن چاہتے ہیں۔ بعض میڈیا کی اطلاعات میں کہا گیا کہ فیس بُک پر یہ تبصرے کسی بیرونی ملک سے کئے گئے ہیں، تاہم سرکاری طور پر اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ گرفتار شدگان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات بشمول قتل کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد اور سٹی بسیس کو نقصان پہنچانے کے سلسلے میں بھی تقریباً 180 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ماتھر نے کہا کہ مسلم نوجوان کے قتل کے سلسلے میں ہندو راشٹر سینا کے خودساختہ سربراہ دھننجئے دیسائی کے رول کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے۔ دیسائی کو تشدد کے بعد اشتعال انگیز لٹریچر پھیلانے کیلئے درج مقدمہ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس، مسلم نوجوان کے قتل کے سازشی پہلو کی بھی تحقیقات کررہی ہے کیونکہ ملزمین نے ’’ایک وکٹ گرگئی‘‘ ایس ایم ایس کو آپس میں گشت کرایا تھا۔ ہندو راشٹر سینا پر امتناع کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی ایسا کیا جاسکتا ہے

اور یہ کام جلد بازی میں ممکن نہیں۔ گرفتار ملزمین کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا جنہوں نے انہیں 9 جون تک پولیس تحویل میں دے دیا۔ علاقہ میں صورتِ حال پرامن رہی اور تشدد کا تازہ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ پولیس نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سوشیل میڈیا پر کوئی اشتعال انگیز پیام نہ بھیجیں اور ایس ایم ایس کے ذریعہ افواہیں پھیلنے نہ دیں۔پولیس نے کہاکہ محسن شیخ جو 2006 ء سے ہڑپسار میں مقیم تھا، کسی بھی تنظیم میں شامل نہیں تھا۔ جبکہ افواہوں میں اُسے ایک تنظیم کا رکن ظاہر کیا جارہا ہے۔ وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ممبئی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران مرکز نے آئی ٹی پروفیشنل کے قتل کے سلسلے میں حکومت ِ مہاراشٹرا سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاستی حکومت سے نوجوان پروفیشنل کی ہلاکت کے حالات و واقعات، مجرمین کو گرفتار کرنے کیلئے اقدامات اور شہر میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کے بارے میں وزارتِ داخلہ نے تفصیلات طلب کی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT